شاہد حمید کا بک کارنر،تحریر: ڈاکٹر حبیب الرحمان

تحریر: ڈاکٹر حبیب الرحمٰن

اگر آپ نے برسوں پہلے کا جہلم نہیں دیکھا تو آپ جانتے بھی نہیں ہوں گے کہ مین بازار اس افراتفری کا شکار کبھی نہیں رہا جیسا اب ہے۔ کتنے ہی سال جہلم آ کر شاندار چوک سے دریا والی مسجد جانا ہمارا معمول رہا۔ کتنی ہی دیر ہم مسجد کی سیڑھیوں تک آئے ہوئے پانی میں پاؤں دھر کے سامنے سے آنے والی نرم خو خنک ہوا لطف اندوز ہوا کرتے۔ شام ڈھلے مسجد سے نکل کر ہماری منزل اکثر مین بازار کے آخری کونے پر بنی ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان ہوا کرتی جہاں کتابوں میں گھرا ایک شخص یہ جاننے کے باوجود کہ ہم فقط کتابیں دیکھنے ورق گردانی کرنے اور نہ خریدنے کے لیے آتے ہیں ہمیشہ آئیے اور خوش آمدید کہہ کر ہمارا استقبال کرتا۔ ہمیں ہر بار نئی آنے والی کتابیں دکھاتا اور دلچسپ پیرائے میں لکھنے والے کے بارے میں بھی بات کرتا۔ مسکراتے ہوئے استقبال کرتی ہوئی اس شخصیت کا نام شاہد حمید تھا اور وہ چھوٹی سی دکان اب بک کارنر جیسا بڑا ادارہ بن چکی ہے۔

ادب دوست اور فن شناس ہونے کے باوجود، مرکزی بازار میں ایک عرصے تک کاروبار کرنے کے باوجود شاہد صاحب کسی حد تک تنہائی پسند ہی رہے۔ خود نمائی کا شوق رہا نہ خود پسندی کا۔ چاہتے تو اپنے سائے میں گگن اور امر کو رکھ کر اپنے آپ کو پروجیکٹ کرتے لیکن وہ اپنی فقیری میں خوش رہے اور ان کو پھلتے پھولتے دیکھ کر جیتے رہے۔

میرے استاد محترم سعید راشد کی کچھ کتابیں بک کارنر نے اَسی کی دہائی میں شائع کیں تو آخر کار ہم بھی بک کارنر کے خریداروں میں شامل ہو گئے اور پھر یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں اب تک جاری ہے۔ استاد مکرم نے علامہ شبلی نعمانی اور علامہ سیّد سُلیمان ندوی کی سیرت النبی ﷺ پر تبصرہ لکھنے کو کہا تو شاہد صاحب نے میری سرشت جانتے ہوئے سیرت النبی ﷺ کی جلدیں تھماتے ہوئے کہا کہ اسے پڑھیے تبصرہ لکھیے اور پھر جی چاہا تو کتابیں واپس کر دیجیے گا۔ شاہد صاحب کے اسی رویے سے ہم کتاب آشنا بھی ہوئے اور آخر کار کتاب خریدنے کی جرات بھی کرنے لگے۔

اسی چھوٹی سی دکان کے پیچھے انہوں نے ایک اور دکان بنائی تو اس میں ناول اور انگریزی کتابیں رکھیں جسے خاص طور پر دکھانے لے گئے۔ دکان کے سامنے میگزین اور رسالے ہوتے اور چھوٹی سی دکان میں اک جہان آباد ہوتا۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ شاہد صاحب کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ ہر لکھنے والے کے اہم اشعار نئی کتابیں کہانیاں افسانے تراجم نئی جہتیں انہیں ازبر تھیں۔ آپ کتاب پر ہاتھ رکھتے تو وہ لکھنے والے کے حوالے سے کچھ ایسی بات کرتے جو آپ کو چونکا بھی سکتی تھی۔

شاندار چوک سے دریا والی مسجد تک چلنا اب محال ہو گیا ہے۔۔۔ مسجد کی سیڑھیوں تک پانی تو دُور کی بات ہے دریا تک نظر نہیں آتا۔۔۔ مین بازار میں زندگی رواں دواں ہونے کے باوجود بازار کا آخری کونا ویران ہو گیا ہے اب وہاں کوئی نہیں جو کتابیں نہ خریدنے والے کو بھی آئیے اور خوش آمدید کہے۔