ہائیڈاسپس، جہلم ، تحریر: راجہ وقار

تاریخی اعتبار سے جہلم دنیا بھر میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی سرسبز اور زرخیز شمار ہونے والی زمین ماضی میں جنگجوؤں کے لیے میدان جنگ رہی ہے۔ یہاں کئی سورماء آئے اور اپنے نشان چھوڑ کر چلے گئے لیکن اس سرزمین پر ایک ایسی جنگ بھی لڑی گئی جس کی نشانیاں آج بھی یہاں موجود ہیں۔

تاریخ دانوں کے مطابق مشہور یونانی جنگجو سکندر اعظم کے گھوڑے کا نام بیوسے فیلیس تھا جس کی پشت پر بیٹھ کر اس نے 355 قبل مسیح سے 326 قبل مسیح کے دوران آدھی دنیا فتح کی تھی۔

تاہم جب وہ جہلم کے مشہور راجہ پورس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ہندوستان آیا تو دریائے جہلم کے کنارے لڑائی کے دوران اس کا یہ گھوڑا مارا گیا تھا
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ گھوڑے کی ہلاکت کے بعد اسے ضلع منڈی بہاﺅالدین کے شہر پھالیہ میں دفن کیا گیا۔ روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس شہر کا نام ”پھالیہ“ بھی گھوڑے کے نام ”فیلیس“ کی نسبت سے پڑا تھا۔

دوسری جانب معروف تاریخ دان سلمان رشید لکھتے ہیں پھالیہ قصبے سے چند کلومیٹر فاصلے پر ‘ہیلاں’ نامی گاؤں واقع ہے۔ یہ جگہ اگرچہ شہنشاہ اکبر کے دور میں بنے ایک مقبرے کی وجہ سے مشہور ہے۔

تاہم مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ گاؤں کا نام ہیلاں اصل میں لفظ ‘ہیلن’ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق ‘سبھی جانتے ہیں ہیلن آف ٹرائے یونانی بادشاہ سکندر اعظم کی بیوی تھی۔ جب اس کا انتقال ہوا تو سکندر نے اس کی آخری آرام گاہ کے طور پر یہ مقبرہ بنوایا تھا۔’

تاریخی کتابوں کے مطابق سکندر اعظم کی راجہ پورس کے ساتھ ہونے والی جنگ میں سنکدر کا کافی نقصان ہوا کیونکہ راجہ پورس اور اس کی فوج نے اُس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

کہتے ہیں فتح کے بعد سنکدر نے پورس سے پوچھا کہ “تم مجھ سے کس سلوک کی امید رکھتے ہو تو پورس نے تاریخی الفاظ کہے کہ ”جو ایک بادشاہ کو دوسرے بادشاہ سے کرنا چاہیے۔“

تاریخ دانوں کے مطابق یہی وجہ تھی کہ سکندر پوٹھوہار کے اس دلیر سپوت سے بڑا متاثر ہوا جو اس کے سامنے زخموں سے نڈھال پڑا تھا لیکن اس کے دل میں سکندر اور اس کی فوجوں کا کوئی خوف اور دہشت نہیں تھی۔

سکندر نے زخمی بادشاہ کے زخموں کا علاج اپنے یونانی حکیموں سے کرانا شروع کیا۔ سکندر نے مہاراجہ پورس سے ایسا سلوک کیا جیسے اس کا کوئی وفادار اس کے لیے لڑتے ہوئے زخمی ہوا ہو۔

یونان لوٹنے سے پہلے سکندر پورس کو اس کی سلطنت لوٹا گیا۔

شاید ایرانی بادشاہ دارا کی طرح میدان جنگ سے فرار ہونے کے بجائے پوٹھوہار کی دھرتی کے سپوت راجہ پورس نے جس طرح یونانی فوجیوں سے جنگ لڑی تھی، اس نے سکندر جیسے جنگجو کو بھی متاثر کیا تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم یونان کے سفارت خانے نے منڈی بہاؤ الدین سے دریائے جہلم کے شمالی کنارے کی طرف واقع جلالپور شریف ضلع جہلم کے مقام پر سکندر اعظم کی یادگار تعمیر کی ہے جس میں سکندر اعظم اور اس کی فوج کے زیرِ استعمال اشیاء کو رکھا گیا ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کی گہری دلچسپی، علمی تحقیق و تجربات کا مرکز بنا ہوا ہے۔

حیرت انگیز طور پر حکومتِ پاکستان نے پوٹھوہار کی دھرتی کے بہادر سپوت راجہ پورس کی یاد میں نہ کوئی یادگار تعمیر کی ہے اور نہ ہی کوئی مجسمہ نصب کیا ہے، شاید صرف اس لیے کہ وہ ہندو مذہب کا پیروکار تھا۔

لیکن کیا سکندر اعظم مسلمان تھا؟ بالکل نہیں، کیونکہ 323 قبل مسیح میں وفات پا گیا تھا اور اسلام اُس کے کئی سال بعد دُنیا میں آیا۔