Amjad Butt

پنڈ دادنخان کا گلابی نمک اور کالی دال. تحریر: محمد امجد بٹ

ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کی اگر بات کی جائے تو اسکے نام کے ساتھ ساتھ اسکے نمک کا ذکر بھی لازم و ملزوم ہے اور جب نمک کی بات ہو تو پھر’’ گلابی نمک‘‘ کی تعریف بھی ناگزیر ہو جاتی ہے ۔ مگر ہم آج پنڈ دادنخان کے نمک کی نہیں بلکہ ’’دال ‘‘ کی بات کرتے ہیں اور دال بھی وہ جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ

’’ دال میں کچھ کالا کالا ہے یا پوری دال ہی کالی ہے;238;‘‘غیر جانبدار تجزیہ کار پنڈ دادنخان کی صورتحال پر تبصرے کر رہے ہیں ہر روز بیٹھک ہر روز افطاریاں ،ہر افطاری کے بعد ’’ اپنی دھرتی اپنا قائد‘‘ کی گونج، حریفوں سے یاری ،پیاری سے قربت،سیاست کے نئے رنگ ڈھنگ،کیا مقامی حکمرانی کی قوس قزاح بتدریج منظر عام پر آ رہی ہے ۔ ;238;سیاسی اندھیروں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کچھ نظر آ رہا ہے;238;دو درویش بیٹھے پنڈ دادنخان کے حالات پر تبصرے فر ما رہے تھے کہ ایک تیسرا گدڑی پوش ادھر آ نکلا اس نے کچھ دیر ان ’’ سیانوں ‘‘ کی باتیں سنیں پھر سوال کیا کہ اندھیرے میں کچھ نظر آ رہا ہے یا صرف ٹامک ٹویاں مار رہے ہو;238;سر جھکائے ایک درویش نے کہا کہ گذشتہ دنوں کی افطاری کے غیر متوقع نتاءج نے مستقبل کے سیاسی منظر نامہ کی آوٹ لائن واضع کر دی ہے بقول شخصے ۔ ’’ہوا کا رخ بدلنے لگ گیا ہے ‘‘ ۔ 2018 کے انتخابات میں عوام نے جس تبدیلی کے لیے ووٹ دیے تھے وہ اب ایک ڈراءونا خواب بن گئی ’’ لیکن اتنا تو ہوا کہ کچھ لوگ پہچانے گئے‘‘اب شدت سے تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے ۔ بقول شخصے ۔

مزاج اپنا اچانک بدل رہے ہیں چراغ

جو مصلحتوں کی حدوں سے نکل رہے ہیں چراغ

اختلافات پیدا ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگی ہیں ۔ راستے جدا نہیں ہوئے لیکن نئے راستوں کی تلاش شروع ہو گئی ہے ۔ سیاست میں سب کچھ کلیئر نہیں کشیدگی کے ساتھ پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں اور لوگ سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں کہ تبدیلی ناگزیر ہے ۔ ابتدائی سوچ ہے سوچا تھا کہ شاید تین چار سال بعد اتھل پتھل کی ضرورت پڑے گی لیکن لگتا ہے کہ شاید اس سے پہلے ہی بلکہ بہت پہلے ہی روشنی کی سمت تبدیل کر دی جائےگی ۔ آخر اس تبدیلی کی ضرورت کیوں ;238;آنے والوں یا لائے جانے والوں کے بارے میں اندازے غلط ہو گئے;238; شطرنج کے کھیل میں مہروں کی تبدیلی میں کئی دن لگ جاتے ہیں یہاں چار دن صبر نہ ہو سکا ہو سب کچھ تبدیل کرنے کے درپے ہو گئے سب ۔

چوہدری عابد اشرف جوتانہ اور راجہ افتخار احمد شہزاد کی ایک بیٹھک کی تصویر نظروں کے سامنے آتے ہی اس نے ماضی کی ایک پوری البم سامنے رکھ دی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب جہلم میں ’’ ق ‘‘ کے ’’ ف ‘‘ کا ’’ ط ‘‘ بولتا تھا تب کی بات ہے کہ راجہ افتخار احمد شہزاد کو تحصیل پنڈ دادنخان کا خدمت گار بنانے کے لیے ’’ پاپڑ ‘‘ نہیں بیلے گئے تھے بلکہ بڑے بڑے ’’ پیڑ ‘‘ ہی جڑوں سمیت اکھاڑ دیے گئے تھے اس وقت چوہدری اسماعیل جوتانہ کے جسم سے رستے خون میں سیاسی کلہاڑوں کے ساتھ ساتھ صحافی تیر اندازوں کا بھی بڑا عمل دخل تھا ۔ مجھ سمیت شاید سب کو معلوم ہی ہو گا کہ کس طرح ’’سنگینوں ‘‘ کے سائے میں حالات سنگین بنا کرراجہ افتخار احمد شہزاد کو ’’ تحصیل ناظمیت ‘‘ کی کرسی پر جھولے جھولائے گئے تھے ۔ پنڈ دادنخان کی سیم زدہ اور جنگلی کیکروں کی سر زمین کو ’’ بذورِ سنگین‘‘ گلشن بنانے کے اس عمل میں راقم سمیت پوری ٹیم کو یرغمال بنا لیا گیا تھا مگر بقول شاعر:

دیکھا جو کھا کے تیر ک میں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

مجھے اچھے طرح یاد ہے کہ اس ملاقات میں ’’ نمک دھرتی ‘‘ کے بہت سے مہربان شامل تھے ۔ مجھے نوابزادہ اقبال مہدی اور راجہ محمد افضل خان (مرحومین) کے ساتھ روا کی گئی ریاستی دہشت گردی آج بھی یاد ہے ۔

چوہدری عابد اشرف جوتانہ اورراجہ افتخار احمد شہزاد کی تصویر کے بعد راجہ افتخار احمد شہزاد کی بات شاید ’’ طول‘‘ پکڑتی جا رہی ہے جس میں موصوف نے ’’ اپنی دھرتی اپنا قائد‘‘کا نعرہ لگایا ہے ۔ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ ’’ ویلے کی نماز ‘‘ہے یا ’’کویلے کی ٹکر‘‘;238;

مجھے نہیں لگتا کہ راجہ افتخار احمد شہزاد کا نعرہ اب کی بار عملی جامہ پہن سکے کیونکہ اب تو نہ ’’ سنگین بردار‘‘ ہیں اور نہ حالات سنگین ۔ جب تک راوی چین لکھتا جائے گا موصوف کا نعرہ ’’صدا البصحرا‘‘ ہی رہے گا ۔

رہی بات چوہدری عابد اشرف جوتانہ کی تو مجھے ادراک ہے کہ ٹھنڈے دودھ کو پھونک مارتے ہیں نہ ہی ٹھنڈے لوہے پروار کرنے کے عادی ہیں ۔ عابد اشرف جوتانہ ’’ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو ‘‘ کے مصداق اپنے پتے شو کرنے کے ہیں ۔ مجھے پتہ ہے کہ چوہدری عابد اشرف جوتانہ پنڈ دادنخان کا ’’ ثوابوں اور نوابوں ‘‘ کا مارا لیڈر ہے ۔ اس نے ہر اس لیڈر کی اس وقت حمات کی جب وہ چوہدری عابد اشرف جوتانہ کی حمایت کا لیبل لگا کر گھستے تھے ۔ چوہدری عابداشرف جوتانہ اور راجہ افتخار احمد شہزاد کی ملاقاتوں اور حالیہ صورتحال کا مستقبل پر کیا اثر پڑتا ہے اس کے لیے مجھ سمیت سب کو سیاسی اونٹ کی کروٹ بدلنے تک کا انتظار کرنا ہوگا کیونکہ ہر بات کی ٹائمنگ بہت اہم ہوتی ہے ۔ سیانوں کا قول ہے کہ’’ ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں ‘‘ یعنی نماز وقت پر پڑھی جائے تو عبادت ہوتی ہے اور بے وقت پڑھی جائے توسوائے بے کیف سجدوں کے اور کچھ نہیں ہوتی ۔

راجہ افتخار احمد شہزاد نے نعرہ تو بہت بڑا لگایا ہے ۔ لیکن یہ نہ ہو کہ وقت کا انتخاب ان کے اس نعرے کو کہیں ’’ کویلے دیاں ٹکراں ‘‘ نہ بنا دے ۔