ضلع جہلم میں‌جگہ جگہ نصب کورونا ڈس انفیکٹ ٹنل سے سانس کی بیماریوں کا خدشہ

ضلع بھر میں کورونا وائرس سے بچائو کیلئے مختلف جگہوں اور دفاتر میں ڈس انفیکشن ٹنل لگائے جارہے ہیں جن سے گزرنے کے بعد ہی انہیں دفاتر میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے ڈس انفیکشن ٹنل لگانے کی مخالفت کردی، کورونا ایڈوائزری گروپ نے تمام جگہوں سے ڈس انفیکشن ٹنل ہٹانے کی ہدایت کردی ہے۔

کورونا ماہرین کے مطابق ڈس انفیکشن ٹنل کورونا کی روک تھام میں مدد نہیں کرتی بلکہ اس سے سانس کی بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے، کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کی رپورٹ کے بعد محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیر نےکورونا ایڈوائزری جاری کردی ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کلورین اور الکوحل کا اسپرے کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں کرسکتا، وائرس کم از کم بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے پر انسانی ہاتھ سے ختم ہوسکتا ہے، لہٰذا کلورین اور الکوحل کے محلول چھڑکنے سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے، سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر کا درجہ حرارت کسی بھی طرح کورونا وائرس کو ختم نہیں کرسکتا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس گرم اور نمی والے علاقوں میں بھی لوگوں میں انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے، سرد موسم اور برفیلے علاقوں میں کورونا میں بھی کورونا وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے، گرم پانی سے نہانے سے بھی کورونا کو نہیں روکا جاسکتا، کورونا وائرس مچھروں کے ذریعے بھی منتقل نہیں ہوسکتا۔