امریکی اور چینی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، باہمی مفادات اور تعلقات پر تبادلہ خیال

امریکی اور چینی صدور

امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی رہنما شی جن پنگ کی 7 ماہ میں پہلی مرتبہ ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جو 90 منٹ تک جاری رہی۔

دونوں رہنماؤں نے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مابین مقابلے کو تنازعات میں تبدیل ہونے سے بچانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں کہ کیا دونوں سپر پاورز کے تعلقات میں تعطل ختم ہوسکتا ہے جو دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں، امریکا کی جانب سے کہا گیا کہ اس کا ثبوت خود پرکھنا ہوگا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جو بائیڈن اور شی جن پنگ کے مابین ایک وسیع تزویراتی گفتگو ہوئی جس میں ان پہلوؤں پر بات چیت بھی شامل ہے جہاں مفادات اور اقدار آپس میں ملتے ہیں۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے رپورٹرز کو بتایا کہ بات چیت میں معاشی مسائل، موسمیاتی تبدیلیوں اور کووِڈ 19 پر توجہ دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر نے دنیا اور انڈو پیسیفک خطے میں خوشحالی، امن اور استحکام میں امریکا کے طویل المعیاد مفاد کو اجاگر کیا اور دونوں رہنماؤں نے دونوں اقوام کی اس ذمہ داری پر تبادلہ خیال کیا کہ مسابقت کو تنازع میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔

فروری میں شی جن پنگ اور جو بائیڈن کی پہلی کال کے بعد سے کبھی کبھار ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں نے انسانی حقوق سے لے کر کووڈ 19 کے ماخذ کے بارے میں شفافیت تک بہت سے مسائل پر بہت کم پیش رفت کی ہے۔

آنے والے مہینوں کے دوران دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے عہدیداروں پر پابندی اور بین الاقوامی ذمہ پوری نہ کرنے کے الزامات لگا کر ایک دوسرے پر تقریباً مسلسل حملہ کیا ہے۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے صدر بائیڈن کو بتایا چین کے حوالے سے امریکی پالیسی نے تعلقات میں ‘سخت مشکلات’ پیدا کی ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ دونوں فریقیں نے متواتر رابطہ برقرار رکھنے اور ورکنگ سطح کی ٹیموں سے رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ چین اور امریکا کو اسٹریٹجک جرات اور بصیرت و سیاسی دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور چین-امریکا تعلقات جلد از جلد مستحکم ترقی کے صحیح راستے کی جانب بڑھانے چاہیے۔

ادھر ایشیا کی کرنسی اور حصص مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی کیوں کہ سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ کال خطے کی معیشتوں کے لیے دو اہم ترین تجارتی شراکت داروں کے درمیان تعلقات میں کچھ پگھلنے کا باعث بن سکتی ہے۔

دوسری جانب بائیدن انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے سے امریکی سیاسی اور عسکری رہنماؤں کو چین کے تیزی سے ترقی کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ پر مزید توجہ مرکوز کرنے کی گنجائش ملے گی۔

تاہم بیجنگ نے افغانستان میں امریکا کی ناکامی پر قابو پانے میں جلدی کی ہے تاکہ امریکا کو ایک وفاداری بدلنے والے شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جائے۔

چینی وزیر خارجہ وینگ یی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اگر واشنگٹن ‘قابو پانے اور دبانے’ کی کوشش کررہا ہے تو اسے اس پر یا دیگر مسائل پر چین کے تعاون کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔

دونوں رہنماؤں کی کال سے قبل ایک سینئر امریکی عہدیدار نے رپورٹرز کو بتایا کہ چینی حکام حالیہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دوران بات چیت کے نکات کو پڑھنے پر آمادہ نظر آئے جس سے واشنگٹن مایوس ہوا اور امریکا اس کال کو ایک امتحان کے طور پر دیکھتا ہے کہ آیا چینی صدر کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے تعلقات میں تعطل کو ختم کرسکتا ہے۔

کال کے بعد عہدیدار نے کہا کہ یہ دیکھنا کہ کیا ہم اس سے کہیں زیادہ قابل ذکر رابطوں کی صلاحیت رکھتے ہیں اسے خود پرکھنا ہوگا۔

SuchTV