انتخابات میں انسانوں کی بجائے مشینوں پر بھروسہ

الیکٹرونک ووٹنگ

دنیا بھر میں جمہوری انتخابی عمل کو شفاف بنانے کےلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے انسانی عمل دخل کم کرکے مشینوں پر زیادہ بھروسہ کرنے والے ممالک کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں اس ںظام کی مخالفت بھی موجود ہے۔

جمہوری نظام کو شفاف بنانے کی غرض سے دنیا میں آسٹریلیا پہلا ملک ہے جہاں 2001 میں ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 27 ممالک اس کا تجربہ کرچکے ہیں۔

کچھ نے اس جدید طریقہ کار کو چھوڑ دیا کچھ ابھی بھی اس پر قائم ہیں فن لینڈ میں بھی الیکٹرونک ووٹنگ کا استعمال 2008 میں شروع کیا گیا۔

جرمنی میں 2005 میں اسے آزمائشی طور پر شروع کیا گیا تھا ارجنٹائن میں بھی یہ نظام رائج کیا گیا لیکن پھر اسکو روک دیا گیا امریکا میں یہ نظام آج بھی رائج ہے لیکن یہاں 2016 کے انتخابات میں ہونے والے ایک سائبر حملے نے اس نظام پر کئی سوالات کھڑے کردیئے تھے۔

پاکستان بھی گذشتہ دس سالوں کے بعد کئی طرح کی مشین ووٹنگ ٹیسٹ کرچکا ہے الیکشن کمیشن کے کارکنوں کو اس ضمن میں تربیت بھی فراہم کی گئی تھی تاہم سیاسی اختلافات اور ناخواندگی کی وجہ سے یہ نظام آج تک قابل عمل نہیں ہے۔

SuchTV