مسئلہ فلسطین مسجد اقصیٰ،انسانی حقوق کی پامالی

تحریر:(سہیل انجم قریشی،دینہ)اسرائیل کی جانب سے غزہ کے محاصرہ نے اسے ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جہاں اوسطاً ایک مربع میٹر کے اندر چار فلسطینی آباد ہیں اور یہ عمل بذاتِ خود ایک بڑا انسانی المیہ ہے-فلسطین کا مسئلہ سوا صدی کے قریب پراناہے جس پر قائد اعظم ؒاور علامہ اقبال ؒ نے بھی اپنی آواز بلند کی-مسئلہ فلسطین کے متعلق قائداعظم کے چند منتخب فرمودات کو ایک کتابچہ کی صورت میں کئی بار شائع بھی کیا جا چکا ہے۔
علامہ اقبالؒ نے فلسطین کے متعلق کہا تھا
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
مَیں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے!
سنا ہے میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!
تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے!
دُنیا کے بہت سے رہنمائوں نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے
لاطینی امریکہ کے ممالک اورجنوبی افریقہ نے اسرائیل کا سماجی بائیکاٹ کیاہے وہ قابلِ تعریف ہے بلکہ جنوبی افریقہ نے تو اسرائیلی مصنوعات پر تجارتی شرط عائد کی ہے کہ ہم صرف وہ اسرائیلی اشیا خریدیں گے جن پر ’’میڈ اِن اسرائیل‘‘ کی بجائے ’’میڈ اِن مقبوضہ فلسطین‘‘ لکھا ہوا ہو جس کا سفارتی زبان میں یہ ترجمہ کیا جا رہا ہے کہ ’’اصولی طور پر‘‘ جنوبی افریقہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور تمام اسرائیلی زمین کو مقبوضہ فلسطین مانتا ہے۔ تمام مسلمان ممالک کو متحد ہوکر اس مسئلے کے حل کیلئے آواز اٹھانی چاہئے -ہماری اسمبلی میں اس مسئلہ پر مباحثہ ہونا چاہئے-بحیثیتِ مسلمان یہ ہماری سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ذاتی حیثیت میں بھی فلسطینی بھائیوں کی مدد کیلئے اپناکردار ادا کریں اور معاشرے میں بھی اس کا شعور اجاگر کریں-
ظلم پرخاموش مسلم حکمران اپنی باری کیلئے تیار رہیں! صیہونی نظام پوری دنیا کو غلام بنا رہا ہے پاکستان کی آزادی کا تحفظ کرنا ہوگا۔حکومت سے مطالبہ ہے کہ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات کو پاکستانی خارجہ پالیسی پر حاوی نہ ہونے دیا جائے، کشمیر و فلسطین میں پاکستان کو پکارتی فریادیں تقاضا کررہی ہیں کہ وطن عزیزکو معاشی و دفاعی لحاظ سے اسلام کا حقیقی قلعہ بنایا جائے پاکستان اللہ کے مہینے رمضان کا انعام ہے تم اہل وطن اس عظیم نعمت پر سجدہ شکر بجا لائیں، صیہونی معاشی نظام پوری دنیا کو غلام بنا رہا ہے ہمیں پاکستان کی آزادی کا تحفظ قائد اعظم اور اقبال کے فرامین کی روشنی میں کرنا ہوگا۔
مغربی معاشی نظریہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ہماری مدد نہیں کرے گا ہمیں اپنی تقدیر کو خود بہتر بنانے کیلئے کام کرنا چاہئے اور مساوات اور معاشرتی انصاف کے حقیقی اسلامی تصور پر مبنی ایک معاشی نظام دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے صرف معاشی ہی نہیں قائد اعظم پاکستان کو عالمی امن کا ضامن بنانا چاہتے تھے۔
آج قائد اعظم کی پیش گوئی سچ ثابت ہوچکی ہے، بڑی طاقتوں کی اقتصادی لوٹ مار ہی دنیا میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے مقابلے کیلئے مسلم ممالک کو آگے بڑھنا ہوگااور دنیا کے مسائل کے واحد حل اسلامی نظام کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرناہوگی۔
لیکن افسوس صد افسوس کہ آج کفر اسلام کے مقابلے میں یکجا اور مسلم امہ کفر کے مقابلے میں انتشار کا شکار نظر آتے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ مسلم ممالک کا آپس میں اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے آج ہم ایک ڈیڑھ ارب ہونے کے باوجود تن ہو تنہا نظر آتے ہیں۔اور دوسری طرف امن و امان قائم رکھنے والے ممالک نہتے فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کو دیکھتے ہوئے بھی چپ سادھ کر بیٹھے ہیں۔۔
حالیہ ظلم و ستم کی خوف ناک بربریت کو دیکھتے ہوئے بھی عالم یورپ خاص طور پر اقوام متحدہ کی چپ یہودی صہونی کٹھ جوڑ کی مکمل تصویر بنے ہوئے ہیں۔ دنیا پوری میں کسی قوم پر کوئی ظلم نہیں ہو رہا سوائے مسلمانوں پر۔۔ہمیں بحیثیتِ مسلمان اقوام تمام ممالک مل کر ایک متحدہ لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا اس وقت مسلم امہ کے لیڈر رجب طیب اردگان ہی تمام مسلمان ممالک کا اجلاس بلا کر اقوام متحدہ کو باور کروائیں کہ اگر نہتے فلسطینیوں وکشمیر یوں پر ہونے والے مظالم کو فل فور بند نہ کیا گیا تو ہم تمام مسلم ممالک نہ صرف تمہارا معاشی بائیکاٹ کریں گے بلکہ مکمل تیار کر کے اپنے نوجوانوں کو میدان جنگ میں مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لیے بھیجیں گے۔
اور میں بحیثیتِ مسلمان اقوام کو یہ بات باور کروانا چاہتا ہوں کہ آپنی آنکھیں کھولوں اور اسرائیل کے ناجائز ھتکنڈوں کو لگام ڈالوں ورنہ وہ دن دور نہیں جب مسلمان تو کیا مسلمانوں کا بچہ بچہ پکارے گا فلسطین ہمارا فلسطین ہمارا۔۔
آخر میں بس اتنا پیغام مسلمانان پاکستان کی طرف سے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اسرائیلی صیہونیوں کے ڈرپوک ہتھکنڈوں کے خلاف۔۔
توہین نہ کر ایماناں دی۔۔
ہم سچا کلمہ داناں دی۔۔
ایمان ہے پختہ سینے میں۔۔
کر دیں گے مشکل جینے میں۔۔
للکار کر خود پچھتائے گا۔۔
تجھے خود پر رونا آئے گا۔۔
تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔۔
اسرائیل تیرے لہو سے دنیا بھر دیں گے۔۔
نعرے تکبیر اللہ اکبر۔۔