ایک بوڑھی عورت کی دربار خلافت میں شکایت کہ میرے گھر میں کیڑے مکوڑے نہیں ہیں

تحریر:(سہیل انجم قریشی دینہ) ایک بوڑھی عورت نے دربار خلافت میں شکایت کی کہ میرے گھر میں کیڑے مکوڑے نہیں ہیں۔۔۔
خلیفہ نے اس کے گھر کا پتا پوچھا اور اسے یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ تمھاری شکایت رفع کر دی جائے گی وہ بوڑھی عورت تو چلی گئی مگر درباری حیران تھے کہ یہ کیسی شکایت ہے اور اس کو رفع کیسے کیا جائے گا خلیفہ کی آواز گونجی امیر بیت المال، اس عورت کے پہنچنے سے پہلے اس کا گھر کھجور، شہد، زیتون سے بھر دو اور درباریوں سے مخاطب کر کے کہا حیرت سے دیکھنے والی آنکھوں سنو جس گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو وہاں کیڑوں مکوڑوں کا کیا کام یہ سنہرا دور خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا دور تھا۔
دوسری جانب نظر دوڑائیں تو حالات و واقعات یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔دورحاضر کےحاکم وقت اپنی رعایا کے لئے آسانیاں پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔غریب ولاچار لوگ علاج و معالجہ کی سہولیات سے نہ صرف محروم بلکہ دو وقت کی روٹی سے پریشان نظر آتے ہیں۔آج وقت کے حاکم کو معلوم نہیں کہ ریاست میں بسنے والا مزدور کیسے زندگی بسر کر رہا ہے۔اس کے گھر کے حالات زندگی کیا ہیں ۔ساری زندگی بنیادی ضروریات کو ترستے ترستے مر جاتا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے آئے دن کسی نہ کسی شہر سے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی لختِ جگر کو زندہ جان بھوک و پیاس سے مرتا دیکھنے کی بجائے موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے۔دورے وقت کے حاکم کے ایوانوں تک خبر تک پہنچ نہیں پاتی۔ چنانچہ رعیت اس وقت خوشحال رہ سکتی ہے جب حاکم کے طور طریقے درست ہوں اور حاکم بھی اس وقت صلاح و درستگی سے آراستہ ہوسکتا ہے جب رعیت اس کے احکام کی انجام دہی کے لئے آمادہ ہو۔ جب رعیت کے حقوق سے عہدہ برآ ہو تو ان میں حق باوقار، دین کی راہیں استوار اور عدل و انصاف کے نشانات برقرار ہوجائیں گے اور پیغمبر ؐ کی سنتیں اپنے رستے پر چل نکلیں گی اور زمانہ سدھر جائے گا۔ بقائے سلطنت کی توقعات پیدا ہو جائیں گے اور دشمنوں کی حرص و طمع، یاس و ناامیدی سے بدل جائے گی اور جب رعیت حاکم پر مسلط ہوجائے یا حاکم رعیت پر ظلم ڈھانے لگے تو اس موقع پر ہر بات میں اختلاف ہوگا۔ ظلم کے نشانات ابھر آئیں گے۔ دین میں مفسدے بڑھ جائیں گے، شریعت کی راہیں متروک ہوجائیں گی۔ خواہشوں پر عمل درآمد ہوگا۔ شریعت کے احکام ٹھکرا دیئے جائیں گے۔ نفسانی بیماریاں بڑھ جائیں گی اور بڑے سے بڑے حق کو ٹھکرا دینے اور بڑے سے بڑے باطل پر عمل پیرا ہونے سے بھی کوئی نہ گھبرائے گا۔ ایسے موقعہ پر نیکوکار ذلیل اور بدکار باعزت ہو جاتے ہیں اور بندوں پر اللہ کی عقوبتیں بڑھ جاتی ہیں