ضلع بھر میں ترقیاتی کام جاری مگر منگلا روڈ جیسی اہم شارع کو تعمیر نہ کرناناقابل فہم ہے

دینہ(ادریس چوہدری)ضلع بھر میں ترقیاتی کام جاری مگر منگلا روڈ جیسی اہم شارع کو تعمیر نہ کرناناقابل فہم ہے۔ وفاقی وزیرفواد چوہدری جیسے بااثر وزیر ہونے کے باوجود منگلا روڈ کے ساتھ لاوارثوں جیسا سلوک تشویش کا باعث ہے۔تفصیلات کے مطابق منگلا روڈ ایک اہم شارع ہے جو کہ منگلا کینٹ سمیت تقریباً200سے زیادہ گاؤں کو دینہ شہر سے ملاتی ہے۔اگر یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ اکثریتی گاؤں کا یہ واحد راستہ ہے جو کہ شہر یا شہر سے باہر جانے کے لیے استعما ل کیا جاتا ہے۔مسلم لیگ ن کی یہ بہت بڑی غلطی تھی کہ گردونواح میں بے شمار سڑکیں تعمیر کیں مگر اس ہم شارع کو چھوڑدیا۔ جس کاخسارہ انہیں ہار کی صورت میں ادا کرنا پڑامگر اب تحریک انصاف اس طرح بالکل توجہ نہیں دے رہی ہے۔ایسے محسو س ہو رہا ہے کہ جیسے ان کی نظر میں اس سڑک کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔پرنٹ، سوشل اور الیکڑانک میڈیا نے وقتاًفوقتاً اس طرف توجہ دلاتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ اس سڑک کی تعمیر نہ ہونے سے لوگوں کے جانی و مالی نقصانا ت ہو رہے ہیں۔ اس سڑک پر سفر کرنے والے بلیڈ پریشر اور زہنی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں مگر حکومت نے ہمیشہ نظر انداز ہی کیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت سے عوام کوبے شمار اُمیدیں وابستہ تھیں مگر دن بدن عوام کے حوصلے پست ہورہے ہیں۔شہر کے معتبر اشخاص کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری جیسے بااثر اور طاقتور وزیر ہونے کے باوجود اس سڑک کا تعمیر نہ ہونا ناقابل فہم ہے۔انہیں اس سڑک کی اہمیت کا باخوبی اندازہ ہے مگر دانستہ یا نا دانستہ طور پر اسے نظر انداز کرنا بہت سارے سوالات کو اجاگر کرتا ہے۔دینہ شہر کے گردونواح میں نالیوں، گلیوں اور راستوں پر توجہ دینے والے ایم پی اے بھی اس معاملے میں خاموش تماشائی دکھائی دیتے ہیں۔چند اشخاص کا کہنا ہے کہ حکومت اسے اپنی دورے حکومت کے آخری سال تعمیر کروانے کا ارادہ رکھتی ہے مگر اکثریت اسے تعمیر نہ کرنے کے منطق سے بے خبر ہے۔پسند نا پسند کو بلائے طاق رکھتے ہوئے عوام عمران خان کی حکومت کی کامیابی کے لئے دعا گو ہے مگر آمدن، اخراجات اورعام آدمی پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظرکسی بھی سہارے کو اپنانے کے لیے تیار ہے۔متاثرین کا وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے مطالبہ ہے کہ وہ کا نوٹس لیں اور اس اہم شارع کو تعمیر کروانے کا حکیم صادر فرمائیں تا کہ عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی تحریک انصاف سے مایوسی کی چنگاری کو بجایا جا سکے۔