دینہ شدید گرمی اور بدترین لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کا بھرکس نکال دیا

دینہ(رپورٹ:ادریس چودھری)یک نہ شد دو شد۔شدید گرمی اور بدترین لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کا بھرکس نکال دیا۔شہریوں کی تبدیلی سرکار کو بدعائیں آگ برساتی گرمی اور لوڈشیڈنگ سے عوام بل بلا اٹھے،اپوزیشن کے نمائندوں کی بھی لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر پراسرار اور مجرمانہ خاموشی۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل دینہ،تحصیل سوہاوہ اور گردونواح میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابوہوگیا ہے آگ برساتی گرمی اور لوڈشیڈنگ سے عوام کیساتھ ساتھ دوکاندار بھی بلبلا اٹھے اس پرگرمی و حبس کی شدت کے ساتھ لوڈشیڈنگ اور غیر علانیہ بجلی بندش اب عوام کے لئے ناقابل برداشت ہوچکے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب سہنے کے ساتھ ساتھ صارفین کو برقی آلات کی خرابی کی دوہری مشکل کا بھی سامنا ہے بجلی کی اعلانیہ، غیر علانیہ بندش نے شہریوں کی زندگی جہنم بنادی ہے، لوڈ شیڈنگ سے بچے، خواتین، بزرگ اور بیمار سب پریشان ہیں۔شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے عوام بل بلا اٹھے، شہریوں نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی واپڈا نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور اوور لوڈ سے آئے روز ٹرانسفارمر کا جلنا معمول بن گیا،بدترین لوڈ شیڈنگ پر جہاں لوگ تبدیلی سرکار کو بدعائیں دے رہے ہیں،وہاں اپوزیشن کے مقامی رہنماؤں کو بھی کھری کھری سنا رہے ہیں۔ اپوزیشن نے ہار کے بعد شہریوں کے مسائل پر چپ سادھ لی الیکشن میں عوام کی ترجمانی کا دعویٰ کرنے والے ہارنے کے بعد عوامی مسائل پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں سابق ایم پی اے مہر فیاض،سابق ایم پی اے راجہ اویس خالد،سابق ایم پی اے چوہدری ندیم خادم،سابق ایم پی اے چوہدری محمد ثقلین،راجہ سفیر اکبر و دیگر کی لوڈ شیڈنگ پر خاموشی شہریوں کے مسائل سے عدم دلچسپی کا ثبوت ہے، جنرل الیکشن میں درجنوں امیدواروں نے حصہ لیا جنہوں نے اپنے حلقہ کی عوام سے بلند و بانگ دعوے کیے جن میں ایک دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہارنے کے بعد بھی اپنے ووٹروں کے ساتھ رہینگے اور ان کے مسائل پر آواز بلند کرتے رہینگے لیکن حالیہ شدید گرمی کے بعد واپڈا کی غیر اعلانیہ لوڈ شیدنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے اس شدید گرمی اور حبس میں واپڈا کی طرف سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا ہے لیکن کسی بھی امیدوار کی طرف سے آج تک نہ تو کوئی مذمت کی گئی اور نہ ہی اس پر آواز اٹھائی گئی جو کہ ان امیدواروں کا عوام کے مسائل سے دلچپسی نہ ہونے کا ثبوت ہے جہاں ایک طرف منتخب نمائندے عوامی مسائل پر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں وہی دوسری طرف اپوزیشن کہلوانے والے بھی مسلسل خاموش رہ کر مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہو رہے ہیں کیونکہ جو اپنے حلقہ کے بنیادی مسائل پر آواز نہیں اٹھا سکتے وہ جیت کر بھی خاموش رہنے والوں میں ہی شمار ہونگے۔ دینہ اور سوہاوہ گزشتہ کئی سالوں سے سیاسی یتیمی کاشکار ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ سیاستدانوں کی بے حسی ہے جو صرف اور صرف زبانی دعوے ہی کرتے آئے ہیں عوامی حلقوں کی طرف سے سابقہ امیدواروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دینہ اور سوہاوہ میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر اپنی آواز اٹھائیں