شہر دینہ میں سٹریٹ کرائم پر قابو پایا جاسکتاہے،ڈی پی او جہلم کو مفاد عوام عملی اقدامات اٹھانا ہونگے

دینہ(ادریس چودھری)شہر دینہ میں سٹریٹ کرائم پر قابو پایا جاسکتاہے۔ڈی پی او جہلم کو مفاد عوام عملی اقدامات اٹھانا ہونگے۔شہر میں آئے روز کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوجاتاہے۔اس میں مقامی لوگوں کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔بلاشبہ ذیادہ تر افغان مہاجرین اور غیر مقامی لوگ شامل ہیں۔افغان مہاجرین کا پر امن ماحول کے حصول کے لیے ان کا انخلا شہر دینہ سے ضروری ہے۔ایسے افغان مہاجرین جن کے پاس ڈرائیونگ لائیسنس ہے کو منسوخ کیا جائے۔%80 واردات موٹرسائیکل سوار کرتے ہیں۔غیر مقامی لوگوں کا بوقت دوران گشت پولیس سڑکوں پر موٹر سائیکل چلانا قابل اعتراض ہے۔مذکورہ لوگ کاروائی کے مستحق ہیں۔شہر دینہ کی آبادی آج بہت زیادہ ہے۔اس مقابلے میں پولیس کی نفری بہت کم ہے۔اس حوالے سے ٹھیکری پہرے کا ہونا اشد ضروری ہے۔بڑی حد اس سے سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ایسے نوجوان جو رات کے 12 بجے ہوٹلوں میں گپ شپ لگا رہے ہوتے ہیں ان پر پولیس کی کڑی نظر ہونی چائیے۔سابقہ کونسلرز کی خدمات حاصل کرکے شر پسند عناصر کے کوائف پولیس اکٹھی کر سکتی ہے۔سٹریٹ کرائم ہونے کے باوجود پولیس سٹیشن میں أیف آئی آر کا اندراج نہیں ہوتا۔اس سے شر پسند عناصر کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں تمام پولیس سٹیشن کو F.I.R درج کرنے کا حکم ڈی پی أو جہلم جاری کریں۔اس طرح کافی حد تک جرائم کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔