کھیل کے میدان غیر آباد ہونے لگے۔موبائل دیمک کی طرح نوجوانوں کو کھانے لگا

دینہ(رضوان سیٹھی سے)کھیل کے میدان غیر آباد ہونے لگے۔موبائل دیمک کی طرح نوجوانوں کو کھانے لگا،کھانے کا ہوش،نہ پڑھائی کا اور مذہب سے بھی دوری۔ہروقت موبائل کی دنیا میں مگن۔تفصیلات کے مطابق موبائل فون کا بے جا استعمال نوجوان نسل کو تباہ کرنے لگا ہے۔ موبائل فون کمپنیوں نے سستے پیکج دیکر نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا۔ موجودہ جدید دور میں موبائل فون ہر ایک کی ضرورت بن گیا ہے مگر اس کا مثبت استعمال نہیں ہو رہا اور خصوصاً نوجوان نسل دن بدن موبائل فون کا غلط استعمال کر کے بے راہ روی کا شکار نظر آرہی ہے۔ سروے کے مطابق مختلف قسم کی موبائل فون کمپنیوں نے رات گئے تک کے سستے فون پیکج دیکر نوجوان نسل کو بگاڑنے میں اپنا اہم کردار شروع کر رکھا ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت رات کو فون پر باتیں کرتے ہیں اور صبح سکول کالج نہیں جا سکتے۔کھیل کے میدان غیر آباد ہو چکے ہیں۔نوجوانوں کو کھانے کا ہوش ہے نہ پڑھائی کا۔ اور مذہب سے بھی نوجوان آہستہ آہستہ دور ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی گھر کا بزرگ ان کو اس بات پر ٹوکے تو انتہائی بد تمیزی سے پیش آتے ہیں۔معاشرے میں عجیب و غریب صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔والدین نے اس ساری صورت حال کو بے بسی سے دیکھ رہے ہیں۔وہ نوجوان نسل کے مستقبل سے شدید تحفظات رکھتے ہیں۔سماجی حلقوں نے اس بارے میں اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔