سیکیورٹی فورسز کا شمالی وزیرستان میں آپریشن، ٹی ٹی پی کا دہشت گرد کمانڈر ہلاک

سیکیورٹی فورسز

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا دہشت گرد کمانڈر ہلاک ہوگیا جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں خفیہ معلومات پر آپریشن کیا جس دوران ٹی ٹی پی کا دہشت گرد کمانڈر صفی اللہ مارا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد صفی اللہ کا تعلق میر علی سے تھا اور وہ فروری 2021 میں ایک این جی او کی 4 خواتین کے قتل اور نومبر 2020 میں ایف ڈبلیو او کے انجینئرز کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔

بیان میں بتایا گیا کہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر آئی ای ڈی حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث تھا۔

سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل 15 ستمبر کو جنوبی وزیرستان کے علاقے عثمان منزہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران پاک فوج کے 7 جوان شہید اور 5 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

رواں ماہ کے اوائل میں کوئٹہ کے مستونگ روڈ پر ایک چیک پوسٹ کے قریب خودکش حملے میں فرنٹیئر کور کے کم از کم چار اہلکار شہید اور 18 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

گزشتہ ہفتے شمالی وزیرستان میں دیسی ساختہ بم دھماکے میں پاک فوج کے دو جوان شہید ہوگئے تھے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ سیکیورٹی فورسز دوسلی میں کلیئرنس آپریشن کر رہی تھیں کہ آئی ای ڈی پھٹ گیا۔

22 اگست کو بلوچستان کے ضلع زیارت میں لیویز اہلکاروں کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے تین لیویز اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔

18 اگست کو جنوبی وزیرستان میں پاک فوج اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک نائب صوبیدار شہید اور ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے کنی گرام میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع ملی تھی جس پر پاک فوج نے کارروائی کی جس کے دوران شدت پسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

SuchTV