آخر رمضان میں ہی کیوں‌مسلمان اپنے بھائیوں‌کو زیادہ لوٹتا ہے؟

تحریر(سہیل انجم قریشی دینہ) رمضان المبارک میں ہی کیوں ہمارے پیارے اسلامی ملک پاکستان میں ہر اشیاء کا ریٹ ڈبل کر دیا جاتا ہے۔کیا ہم مسلمان ہیں؟ جو اس بابرکت مہینہ میں ہی اپنے بھائیوں کو لوٹ کر اذان ہونے پر مسجد کی جانب بھاگ رہے ہوتے ہیں آخر کیوں اور کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟؟؟
رمضان المبارک میں دکاندار ہر اشیاء کی قیمت ڈبل کر کے پورے سال کی کمائی پوری کر رہا ہوتا ہے واحد اسلامی ملک ہے پاکستان جہاں رمضان میں عوام کو پورے سال کی پرانی ناقص اشیاء فروخت کر کے دکاندار بابرکت رمضان المبارک کا ثواب حاصل کر رہے ہوتے ہیں جبکہ غیر اسلامی ممالک میں رمضان میں مسلمانوں کے لیے جو اسٹال لگائے جاتے ہیں ہر اشیاء کی قیمت آدھی کر دیتے ہیں یہاں تک بھی سنا ہے کہ ایک چیز خریدنے پر ایک فری ملتی ہے پاکستان میں رمضان بازار لگا کر عوام کو بیوقوف بنانے کے علاوہ کچھ نہیں .رمضان بازاروں میں کھجور،سبزی،فروٹ بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں عام دنوں میں غریب عوام دو وقت کی روٹی بامشکل پوری کرتی ہے تو رمضان میں تو غریب کا کچومر ہی نکل جاتا ہے۔ ہر رمضان میں اربوں روپے کے رمضان پیکج کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن عوام کو ہر رمضان میں پہلے سے زیادہ مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی چینی نہیں تو کبھی آٹا غائب، یہ اربوں روپے چند مخصوص رمضان بازار بنانے کی بجائے رمضان میں ایسا ماحول کیوں نہیں بنایا جاتا کہ عوام جو ان بازاروں سے ناقص اشیاء خریدنے پر مجبور ہوتی ہے اور جو عوام ان بازاروں کا رخ کرنے کی بجائے مہنگی اشیاء خریدنے پر مجبور ہوتی ہے انہیں ایک جیسا رلیف ملے کم از کم اشیاء اگر سستی نہ ملے تو کم از کم رمضان سے پہلے والے ہی ریٹ پر ملے اگر یہ سٹاک کی کمی کی وجہ سے مسائل آتے ہیں تو حکومت پہلے سے کیوں نہیں سٹاک وافر مقدار میں رکھتی اور زخیرہ اندوزی ہوتی ہے تو حکومت رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی یہ سٹاک مارکیٹ میں کیوں نہیں ڈلواتی کیا اربوں روپے کا پیکج دے کر عوام پر احسان جتلانا ہی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ جس کا فائدہ بھی درحقیقت عوام کی بجائے ان سٹاکسٹ کو پہنچتا ہے جو سپلائر ہوتے ہیں۔اعلی حکام ان بازاروں میں اپنا ٹائم ضائع کرنے اور رمضان بازاروں میں اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے حکومت اگر رمضان المبارک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں جو عام دنوں میں ہوتی ہیں سے کم کر دے تو غریب عوام کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی ریلیف نہیں۔