سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کیا ہے؟ تفصیل جانیے

سینیٹ

سینیٹ انتخابات 2021 کے بعد پاکستان تحریک انصاف ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے تاہم ایوان میں اپوزیشن اتحاد کو حکومتی اتحاد پر برتری حاصل ہوگئی ہے۔

خیال رہےکہ سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخاب ہونے تھے لیکن پنجاب کی11نشستوں پر تمام امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوگئے تھے جس کے باعث آج 37 نشستوں پر مقابلہ ہوا۔

25 فروری کو پنجاب کی 11نشستوں پر بلامقابلہ امیدوار منتخب ہوئے تھے جن میں سے تحریک انصاف نے 5، ن لیگ نے 5 اور ق لیگ نے ایک نشست حاصل کی تھی۔

آج ہونے والے37 نشستوں کے انتخاب کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 37 میں سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 13 نشستیں جیتی ہیں، ان میں سے خیبر پختونخوا سے10، سندھ سے 2 اور اسلام آباد سے ایک نشست جیتی ہے اور پنجاب کی 5 نشستیں بھی شامل کرلی جائیں تو پی ٹی آئی کی مجموعی نئی نشستیں 18 ہوجاتی ہیں۔

اس طرح نئی 18 اور پرانی7 نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف 25 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

پیپلز پارٹی نے8 نئی سیٹیں جیتی ہیں جن میں سے7سندھ سے اور ایک اسلام آباد کی نشست شامل ہے، اس طرح پرانی 13 نشستوں کو ملا کے 21 سیٹوں کے ساتھ پیپلز پارٹی ایوان کی دوسری بڑی پارٹی ہے۔

مسلم لیگ ن نے پنجاب سے 5 نئی نشستیں حاصل کی ہیں جس کے بعد 12 پرانی نشستوں کے بعد ن لیگ کی ایوان میں 17 نشستیں ہیں اور وہ سینیٹ میں دوسرے سے تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے 6 نشستیں جیتیں ہیں اور یہ تمام سیٹیں بلوچستان سے جیتی ہیں جس کے بعد 7 پرانی نشستوں کے ساتھ اس کی 13 نشستیں ہوگئی ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام نے 3 نشستیں حاصل کیں ان میں سے 2 نشستیں بلوچستان اور ایک کے پی سے جیتی ہیں، اور 2 پرانی نشستوں کے ساتھ جے یو آئی کی 5 نشستیں ہوگئی ہیں۔

ایم کیو ایم نے 2 نشستیں جیتیں اور یہ دونوں نشستیں سندھ سے حاصل کی ہیں جب کہ پرانے ایک سینیٹرکے ساتھ اس کے 3 ممبر ہوگئے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی نے 2 نشستیں حاصل کیں جن میں سے ایک بلوچستان اور ایک کے پی سے حاصل کی اور اس کی ایوان میں 2 نشستیں ہی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل) نے سینیٹ کی 2 نشستیں جیتیں اور یہ دونوں نشستیں بلوچستان اسمبلی سے حاصل ہوئیں، اس کی بھی ایوان میں کل 2 نشستیں ہیں۔

مسلم لیگ ق کو سینیٹ کی ایک نشست ملی ہے اور اس کا ایک سینیٹر ہے۔

بلوچستان اسمبلی سے ایک آزاد امیدوار عبدالقادر بھی کامیاب ہوئے ہیں جنہیں بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی، ان کے علاوہ پہلے سے موجود آزاد امیدواروں کی تعداد 4 تھی جوکہ اب 5 ہوچکی ہے۔

ان کے علاوہ ایوان میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 2، نیشنل پارٹی کے 2 اور جماعت اسلامی اور جی ڈی اےکا ایک، ایک ممبر ہے۔

48 نسشستوں میں سے پی ٹی آئی اور اتحادیوں کو مجموعی طور پر 28 نشستیں ملی ہیں جب کہ پی ڈی ایم کو مجموعی طور پر 20 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

ایوان بالا میں نئی پارٹی پوزیشن

100 ارکان کے ایوان بالا میں اپوزیشن اتحاد حکومتی اتحاد پر بھاری ہوگیا ہے اور اسے حکومتی اتحاد پر 6 ارکان کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

سینیٹ انتخاب 2021 کے بعد اپوزیشن اتحادکے ارکان کی تعداد 53 ہوگئی ہے جب کہ حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 47 ہے۔

SuchTV