آتش چنار، تحریر: عفت نورین۔ دیوان حضوری۔ سوہاوہ،جہلم

05۔فروری2021ء یوم یکجہتی کشمیر، 73 برس بیت گئے اور کشمیر کی وادی آج بھی درد کی لہروں میں ڈوبی ہوئی اپنے کنارے کی متلاشی ہے۔ ایک ایسا کنارہ جس کے گلے مل کے چیخ چیخ کر اپنے درد کی داستاں سنا سکے۔ اک ایسا کنارہ جس سے آزادی کی آغوش کی خوشبو محسوس ہو سکے۔ اک ایسا کنارہ جہاں سکوت منتظر ہو اور ایسا سکوت جس سے زندگی امر ہو جائے۔
اس سلسلے میں پاکستان2004ء سے یوم یکجہتی کشمیر سرکاری طور پر فراواں جذبے کے تحت نہ صرف منا رہا ہے بلکہ کشمیریوں سے محبت و عقیدت رکھتے ہوئے عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر بھی کیا۔ تا کہ کشمیریوں کو بھارت کے پنجہ استبداد سے رہائی دلائی جا سکے۔ اور کشمیر کے باسی چناروں کی ٹھنڈی ہواؤں سے غم کی حدت کو دور کر سکیں جو ہر مصائب کے چشم دید گواہ ہیں۔ ان کا رومانوی انداز تشدد کی بدولت اندر ہی اندر سلگ رہا ہے۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب یہ آتش چنار جلد ہی اس جمود کو پگھلا کر رکھ دے گی۔

*جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار*
*ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند*

(ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)