Amjad Butt

جہلم کے سیاسی پکوان ”یہ منہ اور مسور کی دال“،تحریر:امجد بٹ

لکھنے والوں کے لیے بھی بڑے مسائل ہیں۔ بات جنکے دل کو لگی وہ خوش ہوئے اور جنکے دل کو چیرا وہ ناراض۔مجھ ایسے شخص سے زیادہ لوگ ناراض ہی رہتے ہیں۔صحافت کی دو سے زائد عشروں کی عمر میں سب کو خوش کرنے کے لیے از سر نو اپنی تعمیر بہت مشکل ہے۔ جو لکھتا ہوں اس کے لفظ لفظ کا ذمہ دار ہوں کسی کے اُگلے ہوئے لقمے نہیں چباتا۔ ہم ہیں کہ باز آنے والے نہیں۔ اپنی کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے
جہلمی سیاست کے تیور بدلنے لگے ہیں۔ چپ کی بکل مارے سیاست دانوں کی میدان سیاست میں اچانک واپسی ہو رہی ہے۔ انتخابی حلقوں میں جگہ بنانے کے لئے سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ جہلم کی سیاست میں کئی عشروں تک راج کرنے والے خاندان کے خانوادے بھی متحرک نظر آنے لگے۔ن لیگ اور پی ٹی آئی کے دھڑوں میں اپنی دھڑے بندیاں قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ واہ رے سیاست تیرے کیا کہنے۔غلطی کر،سازش کر،سازش کا حصہ بن،حریف کو ناکوں چنے چبوانے کے لیے کسی کو بھی گلے لگا،کسی کی بھی پیٹھ پر تھپکی دے۔ ان دنوں سیاسی ہانڈیاں چڑھی ہوئی ہیں اور طرح طرح کے پکوان سامنے آ رہے ہیں جو اشتہا انگیز بھی ہیں اور لذت سے بھر پور بھی تاہم ان پکوانوں سے خواص ہی مستفید ہو سکتے ہیں عوام نہیں اور اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام تو خود ان سیاسی پکوانوں کے اجزا ء میں سے ہیں اگر کہا جائے کہ ان پکووانوں کاعوام کی شمولیت کی بغیر بننا ممکن ہی نہیں تو غلظ نہ ہو گا۔ کارخانہ قدرت کا قابون نرالا ہے، جاندار سے بے جان اور بے جان سے جاندار مخلوق جنم لیتی ہے۔ اسی طرح معمولی مادے سے غیر معمولی اشیاء کا وجود میں آنا بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ عوام نامی شے بھی کچھ اسی قسم کی ہے کہ یہ تو کہنے کو معمولی حیثیت کی ہے مگر اس سے غیر معمولی اشیاء وجود میں آ تی ہیں۔ بات سیاسی پکوانوں کی ہو رہی ہو تو اس میں مغلیہ پکوان کا ذکر نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ سیاسی رسوئی میں مغلیہ پکوان اپنی الگ شناخت کے حامل ہیں۔ مغلیہ پکوان کو ذائقے دار بنانے کے لیے رسوئی یا رسوئیے کا تجربہ ہو نہ ہو اس میں صحافت کا کئی سالہ تجربہ ضرور شامل ہے محمود مرزا جہلمی اس کو پکوان رہنے دیں گے یا نہیں میرے خیال میں ”کھچڑی“ ضروربنا دیں گے کیونکہ موصوف کا پکاپکایا پکوان عین اس وقت ان کے دستر خوان سے اٹھا لیا گیا تھا جب یہ مولوی کی حیثیت سے ہاتھ دھو کر دعا مانگنے والے تھے مگر پھر پکوان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک پکوان جوتانہ کے باروچی خانے میں بھی تیار کیا جا رہا ہے مجھے جوتانہ گھرانے کے پکوانوں اور انکے ذائقے کا دراک تو نہیں مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ عابد جوتانہ سے اگر پکوان نہ بھی بن سکا تو وہ اس سیاسی دیگ کو سیمنٹ ڈال کر اس قابل بھی نہیں چھوڑیں گے کہ کوئی دوسرا اس دیگ میں اپنی دال گال سکے سیمنٹ بھری دیگ تو پھر شاید جلالپوری نعمان شاہ کے کام بھی نہ آ سکے گی اور انہیں جلالپوری لنگر پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا کیونکہ نعمان شاہ پہلے ہی متعدد دیگوں کے پکوانوں کا ذائقہ چکھ کر واپس تبدیلی والے لنگر خانے میں آ چکے ہیں۔البتہ دو مرتبہ عوام کوسیاسی ذائقوں سے روشناس کروانے والے ”اسد بھائی“ عرصہ دراز کے بعد پتہ نہیں کون سے نت نئے پکوان اور انکی نئی نئی ترکیبیں تیار کرنے میں مصروف ہیں اس ڈر سے کہ کہیں انکی ہنڈیا بیچ چوراہے نہ پھوٹ جائے ابھی انہوں نے اپنے پکوان کو کوئی نیا نام نہیں دیاکیونکہ جو پکوان یہ پہلے کھلا چکے ہیں وہ اب عوام پسند نہ کریں۔ابھی تک تو ”فواد آیا سواد آیا“ کا پکوان بڑی تیزی سے بک رہا ہے اور عوام اڑھائی سالوں سے اسکے ذائقے کو ”جہاں مامتا وہاں ڈالڈا“ ہی سمجھ رہے ہیں اس پکوان کا اثر اور ذائقے کا پتہ لنگر خانہ بند ہونے کے بعد ہی لگے گا تب تک شاید مطلوب مہدی ”مطلوبہ“ حدف پورا کرنے لے لیے اپنی ”شب دیگ“ کی آنچ کو ہلکا ہی رہنے دیں گے کیونکہ شب دیگ اگر تیز آنچ پر پکائی جائے تو نہ صرف دیگ بلکہ اس میں پکنے والا پکوان بھی بے ذائقہ ہو جاتا ہے۔مطلوب مہدی کے پکوان کے پکوان کے سواد اور فواد کا چولی دامن کا ساتھ ہے اگر ”فواد آیا سواد آیا“ اونچی دکان پھیکا پکوان ثابت ہوا تو مہدی پکوان شاید دوبارہ ذائقوں کی دنیا میں اپنا مقام حاصل کر سکے وگرنہ تو فواد اس سواد کو قائم رکھنے کے لیے اپنے پکوانوں کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا بھی تڑکا لگا رہے ہیں تاکہ انکے پکوانوں کا ذائقہ عوام کے منہ میں تا دیر قائم رہے۔بات مطلوب، فواد، اسد،مغلیہ،جوتانہ،جلالپوری پکوانوں کے بعد ”گوجری“ حلوہ پر آ کر سب کو انگلیاں چاٹنے پر مجبوری کرتی ہے کیونکہ حلوہ گھی اور میوے کا عمدہ نوالہ تو ضرور ہے مگر یہ ”گوجری“ سیاسی حلوہ اتنا تر نوالہ نہیں کہ کوئی آسانی سے نگل لے۔یہ گوجری حلوہ پیلے نہیں بلکہ ”لال“ رنگ کا ہے”لال“ رنگ ہمیشہ سے ہی خطرے کی علامت کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا ہے۔لہذا سیاسی باورچیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے پکوانوں کے ذائقے عوام کو چکھانے میں مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ حلوے کے فوائد اور نقصانات سے بھی آگاہ رہیں ۔اگر اپنے اپنے تائیں پکوان تیار کر کے خود ہی ذائقے چھکنے ہیں اور عوام کو اس میں شامل نہیں ہونے دینا تو پھر ہو سکتا ہے کہ عوام ”کان نمک‘‘ کا رخ کریں اور ہر ایک دیگ میں حصہ بقدر جسہ نمک ڈال کر سب ذائقوں کو بے مزہ بنا کر یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ”یہ منہ اور مسور کی دال“