جہلم ضلعی انتظامیہ مہنگائی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام

جہلم(چوہدری عابد محمود +عمیراحمدراجہ)جہلم ضلعی انتظامیہ مہنگائی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس دفاتر تک محدود، شہری گراں فروشوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور، ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں خود ساختہ مہنگائی عروج پر، گرانفروشی اور ذخیرہ اندوزی تاجروں نے وطیرہ بنا لیا، شہریوں کا وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں خود ساختہ مہنگائی پورے عروج پر ہے، گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں نے ضلع بھر میں اپنی الگ بادشاہت قائم کررکھی ہے، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بھی ذخیرہ اندوزوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں، مجسٹریٹس دکانداروں کو چیک کرنے کی بجائے دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، سرکاری نرخنامے کے مطابق آلو کی قیمت 70 روپے فی کلو ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 90 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، مارکیٹ کمیٹی کے مطابق ٹماٹر کی قیمت 130 مقرر ہے جبکہ دکاندار صارفین کو ایک کلو ٹماٹر150 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرتے رہے، سرکاری نرخنامے کے مطابق ایک کلو پیاز کی قیمت60روپے ہے جبکہ دکاندار ایک کلو پیاز80 سے 85 روپے تک فروخت کرتے رہے، ادرک تھائی لینڈ کی قیمت 550 روپے فی کلو مقرر تھی جبکہ دکاندار 650 روپے فی کلو تک فروخت کرتے رہے،اسی طرح ایک کلو لہسن چائنہ کی قیمت180 روپے مقرر تھی جبکہ دکاندار 230 روپے تک فروخت کرتے رہے، ایک کلو کریلے 60 روپے کی بجائے 90 روپے، شملہ مرچ130 روپے کی بجائے150 روپے، بند گوبھی 40 روپے کی بجائے60 روپے، سبز مرچ155 روپے کی بجائے 200 روپے، لیموں چائنہ50 رو پے کلو کی بجائے 90 روپے فی کلو تک فروخت کئے جاتے رہے۔