امریکا نے میزائل تجربات کرنے پر شمالی کوریا اور روس پر پابندیاں عائد کر دی

میزائل تجربہ
امریکا نے شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے روس اور چین سے سامان کی خریدنے والے شمالی کوریا کے چھ اور روس کے ایک باشندے اور ایک روسی فرم پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

یہ کارروائی شمالی کوریا کے میزائل لانچوں کی ایک سیریز کے بعد کی گئی، جس میں گزشتہ ہفتے کے دو میزئل بھی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد شمالی کوریا کو ہتھیاروں کے پروگرام کی ترقی اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کو پھیلانے کی کوششوں کو روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ستمبر 2021 سے شمالی کوریا کے چھ بیلسٹک میزائل لانچ کیے، جن میں سے ہر ایک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

ماتحت امریکی سیکریٹری برائے خزانہ و دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے اقدامات کا ہدف بتاتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ‘ہتھیاروں کے لیے غیر قانونی طور پر سامان کی خریداری کے لیے غیر ملکی نمائندوں کے مسلسل استعمال’ کو نشانہ بنایا گیا’۔

نیلسن نے ایک بیان میں کہا کہ شمالی کوریا کے تازہ ترین میزائل تجربات اس بات کا مزید ثبوت ہیں کہ وہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے سفارت کاری اور جوہری تخفیف کے مطالبات کے باوجود ممنوعہ پروگراموں کو آگے بڑھا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے روس میں مقیم شمالی کوریا کے جوئی میونگ ہیون، روسی شہری رومن اناتولیویچ الارا اور روسی فرم پارسک ایل ایل سی کو ‘بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں یا لین دین کے لیے نامزد کیا ہے’۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ولادیووستوک میں مقیم شمالی کوریا کی سیکنڈ اکیڈمی آف نیچرل سائنسز (سانس) کے نمائندے جوئی میونگ ہیون نے روس سے ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق آلات کی خریداری کے لیے کام کیا تھا۔

چین میں مقیم سانس کی ماتحت تنظیموں کے شمالی کوریا کے چار نمائندے سم کوانگ سوک، کم سونگ ہن، کانگ کول ہک، پیون کوانگ کول اور جنوبی کوریا میں مقیم ایک او یونگ ہو کوبھی نشانہ بناتے ہوئے ٹریژری نے کہا ہے کہ ان کے دو ساتھیوں نے اسٹیل کے مرکبات، سوفٹ وئیر اور کمیکل کی خریداری کی تھی۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ہائپر سونک میزائل کے تجربے کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے ملک کی فوجی طاقت کو بڑھانے پر زور دیا۔

ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسرے ٹیسٹ نے کم کے نئے سال کے موقع پر جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ فوج کو تقویت دینے کے عزم کی نشاندہی کی ہے جبکہ جنوبی کوریا اور امریکا کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

منگل کو کیا گیا یہ تجربہ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے چند گھنٹے سامنے آیا، جس میں البانیہ، فرانس، آئرلینڈ، جاپان اور برطانیہ شامل تھے، شرکا نے گزشتہ ہفتے کے آغاز میں لانچ کیے جانے والے میزائل کی شدید مذمت کی اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے اپنی پابندیوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں نے شمالی کوریا کے تمام بیلسٹک میزائل اور جوہری تجربات اور ان پروگراموں پر پابندی عائد کی ہے۔

امریکی پابندی کا نشانہ بننے والوں کے امریکا سے متعلق تمام اثاثے کو منجمد کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ تمام معاملات پر پابندی لگا ہوگی۔

SuchTV