سرائے عالمگیر کے شہری نے ڈسٹرکٹ جیل میں ہونے والی مالی کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لئے اینٹی کرپشن سے رجوع کر لیا

جہلم(چوہدری عابد محمود +عبدالغفارآذاد)جہلم سرائے عالمگیر کے شہری نے ڈسٹرکٹ جیل میں ہونے والی مالی کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لئے اینٹی کرپشن سے رجوع کر لیا، آج ڈسٹرکٹ جیل جہلم کے سپرنٹنڈنٹ اور 2 ملازمین سرکل آفیسر اینٹی کرپشن جہلم کے سامنے پیش ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق سرائے عالمگیر کے شہری نے تھانہ اینٹی کرپشن میں درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ آفتاب باجوہ اور اس کے کارخاص ملازمین مختلف اوقات میں رشوت وصول کرتے رہے ہیں۔ درخواست گذار خالد حسین ولد نذیر حسین ساکن بجلی گھر سرائے عالمگیر ضلع گجرات نے تحریر کیا ہے کہ میرا چھوٹا بھائی رضوان جانی ولد نذیر حسین جو کہ ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں مقدمہ نمبر 145/17 میں زیر دفعہ 302 میں سزائے موت کا قیدی ہے جسے مختلف حیلوں بہانوں سے بلیک میل کر کے جیل کے اندر حراساں کیا جاتا رہا، اس بابت جیل سپرنٹنڈنٹ آفتاب باجوہ سے شکایت کی تو اس نے کہا کہ آپ میرے اہلکار اکرم سے معاملات طے کر لیں۔جب جیل اہلکار اکرم سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ اگر بھائی کی پریشانیوں کا خاتمہ چاہتے ہوئے تو ماہوار30 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔ورنہ آپ کے بھائی کا جیل میں جینا دوبھر ہو جائیگا۔ جس پر مجبوراً میں نے ہر ماہ30 ہزار سمیت دیگرخواہشات کا احترام کرنا شروع کر دیا۔ پھر کچھ عرصہ بعددوبارہ جیل کے اندر میرے بھائی کو تنگ کرنا شروع کر دیا گیا۔میں نے دوبارہ ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ آفتاب باجوہ سے ملاقات کرکے شکایت کی توانہوں نے کہا کہ آپ میرے کار خاص یاسرکے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کر لیں،یاسرنامی اہلکار نے میرے بھائی سے جیل میں مل کر کہا کہ اب ماہانہ 50 ہزار دینا ہونگے۔اس طرح یاسر نامی اہلکار کو میں نے ماہوار 50 ہزاردینے شروع کر دیئے اور تین ماہ بعد یاسر نے کہا کہ اب میرے صاحب کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اس لیے 50 ہزار بہت کم ہے ان میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ میں رشوت دے دے کر تھک گیا ہوں۔تحریری درخواست پر تھانہ اینٹی کرپشن جہلم کے افسران نے باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیاہے، آج مورخہ 10 جنوری بروز سوموار تھانہ اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسر نے جیل سپرنٹنڈنٹ،اہلکاروں کو طلب کر رکھا ہے۔