وزیراعظم عمران خان نے سو ہاوہ میں القادر یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاک کی افتتاح کیا

دینہ (رضوان سیٹھی سے) وزیراعظم عمران خان نے سو ہاوہ میں القادر یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط ایمان اور اخلاقی کردار اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جس نے انسان کو راہِ راست اختیار کرنے کی ہدایت کی،انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان سوشل میڈیا کے اس دور میں کنفیوژن کا شکار ہے جس نے مغربی ثقافت تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کی،تاہم، انہوں نے کہا کہ چونکہ معلومات کے بہاؤ پر پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں، اس لیے نوجوانوں کو صحیح اور غلط کے بارے میں بتا کر ”باخبر انتخاب” دینا ضروری ہے،مستقبل میں دنیا میں پیغمبر اکرم (ص) کے خلاف توہین رسالت کے کسی بھی واقعے کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ وہ قوم کو ”دانشورانہ اور مدلل ردعمل” کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دیں گے،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مذہبی عقائد کے اختلاف پر کسی کو کافر (کافر) کہنا ایک خطرناک رجحان ہے، جسے فکری مباحث کے ذریعے دور کرنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم نے ذکر کیا کہ ان کی حکومت نے غیر منصفانہ تین متوازی تعلیمی نظاموں یعنی انگلش میڈیم، اردو میڈیم اور مدارس کو ختم کرنے کے لیے واحد قومی نصاب متعارف کرایا، جس کے نتیجے میں معاشرے میں نوجوانوں کے نظریاتی طور پر مختلف دھارے پیدا ہوئے،انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کا مقصد اسلام کے پیغام کو اس انداز میں پھیلانا ہے جو عام آدمی کے لیے قابل فہم ہو،انہوں نے مختصر عرصے میں القادر یونیورسٹی کے تعلیمی کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور مسلمانوں کے سنہرے دور پر تحقیق کرنے پر زور دیا جہاں اس کے قائدین، اسکالرز اور سائنسدانوں نے دنیا پر حکومت کی،عمران خان نے کہا کہ اس سلسلے میں یونیورسٹیوں کا بہت بڑا کردار ہے اور انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ القادر یونیورسٹی تحقیق اور صحت مند مباحث کے معیارات کو بحال کرے گی،انہوں نے ذکر کیا کہ اقبال کے تصور ’شاہین‘ کا تعلق ایک پرعزم قوم سے ہے جس سے ذہنی غلامی کے طوق کو توڑ کر ترقی حاصل کرنے کی ہمت ہے،عمران خان نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اس بات پر زور دیا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیے بغیر حقیقی خوشحالی حاصل نہیں ہو سکتی،تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستانی قوم کی اکثریت کٹر مسلمان ہونے کے باوجود اپنی عملی زندگیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو ابھی تک نہیں پہنچا سکی،انہوں نے کہا کہ اسلام کی پہلی سماجی و فلاحی ریاست مدینہ کی توجہ خود احتسابی اور اعلیٰ اخلاق پر مرکوز تھی،آج بھی، انہوں نے کہا، ایک عظیم قوم بننے کے لیے ایک مضبوط اخلاقی کردار کی ضرورت ہے جس میں سچائی اور سب کے لیے سماجی انصاف کی مساوات پر یقین ہو،عمران خان نے کہا کہ برصغیر کے تمام صوفی بزرگوں جیسے بابا بلھے شاہ، نظام الدین اولیاء، داتا گنج بخش، بابا فرید اور دیگر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا پرچار کیا جس میں انسانیت سے محبت پر توجہ دی گئی،انہوں نے کہا کہ اچھے لیڈر میں چار خوبیاں شامل ہیں جن میں سچائی، انصاف، جرأت اور بے لوثی شامل ہیں،انہوں نے پچھلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جن کے لیڈروں نے اقتدار میں آتے ہی عوام کا پیسہ لوٹا، انہوں نے یاد دلایا کہ حال ہی میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں ایک مفرور رہنما کو بطور مہمان خصوصی خطاب کے لیے مدعو کیا گیا تھا، جسے انہوں نے ’اخلاقی گراوٹ کی بلندی‘ قرار دیا،انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی قوم نے بدعنوانی اور بے ایمانی کو برائی تسلیم کرنا چھوڑ دیا تو اس کا اخلاقی تانے بانے تباہ ہو جاتا ہے،خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ قوم ایک ”اخلاقی نشاۃ ثانیہ” حاصل کرے اور سیرت رسول (ص) کے مطابق اعلیٰ اخلاقی کردار کے حامل لیڈروں کو اپنے اندر سے اٹھائے،انہوں نے کہا کہ پرائم منسٹر ہاؤس یونیورسٹی پر کام گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں ضروری رسمی کارروائیوں کے بعد شروع ہونے والا ہے، جو ان کے بقول ایک اعلیٰ تکنیکی ادارے میں تبدیل ہو جائے گی،بعد ازاں وزیراعظم نے یونیورسٹی کے مختلف اکیڈمک بلاکس کا چکر لگایا اور فیکلٹی سے بات چیت کی۔