جہلم شہر میں تجاوزات ختم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا

جہلم(چوہدری عابد محمود +چوہدری دانیال عابد)جہلم شہر میں تجاوزات ختم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، تجاوزات ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھنے لگی جو کسی بھی وقت کسی بڑے سانحہ کو جنم دے سکتی ہے،میونسپل کمیٹی کی جانب سے شہر و گردونواح کے مختلف بازاروں میں چند ماہ قبل تجاوزات کیخلاف مہم شروع کی گئی جس کے بعد شہر میں تجاوزات کرنیوالوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی اور شہر کے مختلف علاقوں سے تجاوزات ختم ہونے لگی تھی لیکن تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن التواء کا شکارہ ہونے کیوجہ سے ایک مرتبہ پھر تجاوزات مافیا نے شہر سمیت ملحقہ علاقوں کے بازاروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے شہر کا کوئی بازار گلی محلہ ایسا نہیں ہے جس کی سڑکیں‘ فٹ پاتھ‘ گلیاں قبضہ مافیا سے محفوظ ہوں ان میں اکثر بازاروں میں تجاوزات کی یہ صورتحال ہے کہ بااثر دکانداروں نے سڑکوں پر بھی کئی کئی فٹ تک قبضے جمالئے ہیں 3 فٹ کی جگہ پر پھٹے رکھنے کیلئے میونسپل کمیٹی کے افسران و اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی تجاوزات کی اجازت دے رکھی ہے، جس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں نے 4, سے5 فٹ جگہ کو گھیر کر دکانیں لگوا رکھی ہیں۔ دکانوں کے آگے موجود سڑک پر ماہانہ ہزاروں روپے ماہوار پر دکانداروں نے ٹھیے کرائے پرچڑھا رکھے ہیں، اسی طرح شہر کے مختلف چوک، چوراہوں میں لوگوں نے پگڑی کی آڑ میں لاکھوں روپے وصول کرکے دکانیں اور پھٹے کرائے پر دے رکھے ہیں اگر یہی پھٹے میونسپل کمیٹی خود لگوائے تو میونسپل کمیٹی را ولپنڈی ڈویژن کی منفرد میونسپل کمیٹی بن سکتی ہے۔ مگر میونسپل کمیٹی کے کچھ کرپٹ عملے کی مبینہ ملی بھگت سے چند ہزار روپے کے عوض بااثر دکانداروں کو تجاوزات کرنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں جس سے قومی خزانے کو ماہانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا نقصان ہورہا ہے، اگر میونسپل کمیٹی کے چیئرمین، چیف آفیسر خلوص نیت سے میونسپل کمیٹی کے خزانہ کو بھرنا چاہیں تو شہر سمیت مختلف علاقوں میں یہی پھٹے اور ٹھیے والے دکاندار خود لاکھوں روپے میونسپل کمیٹی کے خزانے میں جمع کراسکتے ہیں جس سے میونسپل کمیٹی میں پیدا ہونے والی مالی مشکلات کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔