تحصیل سوہاوہ کی 6 سالہ حلیمہ فاطمہ کسی مسیحا کی منتظر

جہلم(چوہدری عابد محمود +مرزاکفیل بیگ کیفی)جہلم کی تحصیل سوہاوہ کی 6 سالہ حلیمہ فاطمہ کسی مسیحا کی منتظر، حلیمہ فاطمہ جو پیدائشی طور پر بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہے ڈاکٹروں نے آپریشن کے زریعے مصنوعی آلات لگانے کے ساڑھے 18 لاکھ روپے مانگ لئے، گھر والوں کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ننھی پری پریشانی کا شکار،تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے باغ محلہ کی رہائشی 6 سالہ حلیمہ فاطمہ جس کی نیلی آنکھیں بھورے بال اور پریوں جیسی رنگت ہے جو پیدائشی طور پر قوت گویائی اور قوت سماعت محروم ہے عام بچوں کی طرح زندگی گزارنے کی خواہشمند یہ ننھی پری اپنے اندر بے شمار ارمان سجائے ہوئے۔حلیمہ فاطمہ کے گھر والوں کے مطابق ڈاکٹروں نے حلیمہ فاطمہ کے آپریشن کے لیے ساڑھے 18لاکھ روپے بتائے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر7 سال کی عمر سے پہلے آپریشن کروا لیا جائے تو اپریشن کے زریعے مصنوعی آلات لگ سکتے ہیں جس سے وہ نارمل بچوں کی طرح سن اور بول سکے گی 7 سال کی عمر کے بعد آپریشن ممکن نہیں ہوگا۔حلیمہ فاطمہ کا والد محنت مزدوری کرکے گزر بسر کر رہا ہے، حلیمہ فاطمہ کے والدین کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اپنی بچی کا علاج کروا کر زندگی کی بہاریں دکھا سکیں حلیمہ فاطمہ کی آنکھیں دروازے پر لگی کسی مسیحا کی منتظر ہیں۔اسکے والدین نے وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر فوادحسین چوہدری سمیت مخیرحضرات سے مدد کی اپیل کی ہے تاکہ وہ اپنی بچی کا علاج کرواکے نارمل بچوں جیسی زندگی گزار سکے۔