آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ‘داخلی سیکیورٹی’ پر جنرل فیض کی بریفنگ

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انٹرسروسز انٹیلی جینس (آئی ایس آئی) کے ہیڈکوارٹرز کادورہ

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انٹرسروسز انٹیلی جینس (آئی ایس آئی) کے ہیڈکوارٹرز کادورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان کا استقبال کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ‘داخلی سیکیورٹی اور افغانستان کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی’۔

بیان میں کہا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ادارے کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ آرمی چیف نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جب فوج اور حکومت کے درمیان خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی کے معاملے پر مبینہ طور پر اختلاف کا تاثر پایا جاتا ہے۔

فوج کی جانب سے 6 اکتوبر کر آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کردیا تھا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو ان کی جگہ آئی ایس آئی کا نیا سربراہ تعینات کردیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے تاحال لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، جس پر سول-عسکری چپقلش کے بارے میں افواہیں پھیل گئیں۔

بعد ازاں 12 اکتوبر کووفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے چہ مہ گوئیوں پر کہا تھا کہ آئی ایس آئی سربراہ کی تعیناتی کی صوابدید وزیراعظم کی ہے اور اس حوالے سے قانون پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ رات وزیراعظم اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے درمیان طویل ملاقات ہوئی، آرمی چیف اور وزیراعظم کے آپس میں بہت قریبی اور خوشگوار تعلقات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے ضمن میں بھی بہت اہم ہے کہ پاکستان کی سول اور ملٹری کے درمیان بہت آئیڈیل تعلقات ہیں، وزیر اعظم آفس کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے پاکستان کی فوج یا پاکستان کے سپہ سالار کی عزت میں کمی ہو اور پاکستان کی فوج یا سپہ سالار بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے وزیر اعظم یا سول سیٹ اپ کی عزت میں کمی ہو۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف دونوں کا ایک دوسرے سے قریبی رابطہ اور تعلق ہے، نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اور اس پر بھی دونوں کا اتفاق رائے ہے’۔

وزیرداخلہ شیخ رشید نے ہفتے کو دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کا معاملہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان حل ہوگیا ہے اور جمعے سے پہلے خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی تقرری ہوگی۔

حکومت اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے درمیان اختلاف کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ملک کا موجودہ ماحول اچھا ہے اور کہا کہ ‘چندعناصر کی جانب سے انتہائی حساس اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش ہو رہی ہیں’ جو قابل افسوس ہیں۔

SuchTV