گلگت بلتستان میں بارش اور پہاڑوں میں برفباری کا سلسلہ جاری

گلگت بلتستان میں بارش اور پہاڑوں میں برفباری

پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ شب بابو سر ٹاپ کے مقام پر 16 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی۔

گلگت بلتستان میں پہاڑوں پربارشوں اوربرفباری کاسلسلہ جاری ہے، بابوسر ٹاپ پر رات گئے16 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا۔

دیامر کی انتظامیہ نے برفباری میں پھنسی گاڑیوں، مسافروں کو نکالنےکیلئے ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے، اب تک اہلکاروں نے 70 کے قریب مسافروں کو ریسکیو کیا۔

دیامر کی انتظامیہ نے مسافروں اور سیاحوں کو غیرضروری سفرسےاجتناب کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

یاد رہے کہ 10 اکتوبر کو خیبرپختون خواہ اور گلگت بلتستان کے شمالی علاقوں میں موسم سرما کی پہلی برفباری ہوئی تھی، جس کے باعث سیکڑوں سیاح اور مسافر پھنس گئے تھے۔

وادی سوات کے بالائی علاقوں، کمراٹ، کالام، مٹلتن سمیت دیگر علاقوں میں موسم سرما کی پہلی برف باری ہوئی، جس کا سلسلہ دو روز تک جاری رہا۔ برفباری کے بعد پہاڑوں سفید برف سے چھپ گئے جبکہ سردی کی شدت میں اضافہ بھی ہوا ۔ بالائی علاقوں میں شہریوں نے گرم ملبوسات کا استعمال شروع کردیا۔

علاوہ ازیں دیر بالا اور لواری کے پہاڑوں پر بھی موسم سرما کی پہلی برفباری ہوئی، جس کے بعد وہاں درجہ حرارت منفی ہوگیا ہے۔ گلگت بلتستان کے بلند مقام بابو سر ٹاپ پر بھی اچانک برفباری شروع ہوئی، جس کی وجہ سے وہاں پر سیکڑوں سیاح پھنس گئے تھے۔ دیا مر کے ڈپٹی کمشنر نے مسافروں ، سیاحوں کو قریبی گیسٹ ہاؤس منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

ڈپٹی کمشنر سعد بن اسد نے بتایا تھا کہ تمام عملہ جائے وقوع پرموجود ہے،امدادی کارروائیاں جاری ہیں، کچھ مسافر انتظامیہ کے ساتھ تعاون نہیں کررہے، خیبرپختون خواہ کی ضلعی انتظامیہ کو درپیش مسائل سےآگاہ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بابوسر شاہراہ پر سفری پابندی عائدکر دی گئی۔

SuchTV