چھ ماہ میں پنڈ دادنخان کےلیے پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرنے والوں کے نعرے کھوکھلے نکلے،چوہدری عابد جوتانہ

پنڈ دادنخان (ملک ظہیر اعوان)حلقہ این اے67جہلم و حلقہ پی پی27پنڈ دادنخان کے عوام کا پینے کے پانی کا دیرینہ مسئلہ صرف چھ ماہ میں حل کرنے کے نعرے لگانے والے عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑ کر کہاں غائب ہو گئے ہیں اب تو پینے کے صاف پانی کے بارے ذکر تک نہیں ہوتا،علاقہ تھل اور علاقہ جالپ کے ساتھ ساتھ حلقہ کے دونوں بڑے شہروں کھیوڑہ اور پنڈ دادنخان میں بھی صاف پانی میسر نہیں چھ ماہ میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کے تمام نعرے تمام دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے عوام کو دھوکے میں رکھنا خود کو دھوکے میں رکھنے کے مترادف ہے الیکشن کے موقع پر لگائے گئے نعروں پر عمل درآمد ضروری ہے تحصیل پنڈ دادنخان میں پینے کے پانی کا میگا پراجیکٹ تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے اس کی مرمت کے لئے سوا دو کروڑ کا ٹھیکہ دیا گیا لیکن ٹھیکیدار چند لاکھ روپے کا کام کر کے چلا گیا ہے اس سکیم پر سابقہ اداور میں ایک ارب سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے اب اچھے طریقے سے اس سیکم پر توجہ نہ دی گئی تو اس سکیم کے پائپ مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے معمولی بارش کے باعث لینڈ سلائینڈنگ سے پائپ لائن ٹوٹ جاتی ہے پینے کے اوپن سورس کی وجہ سے عوام مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں کندوال میں پینے کا پانی بھی کھلے پہاڑوں سے آ رہا ہے جو پانی 26دیہاتوں کو ملنا تھا وہ صرف سات دیہاتوں تک محدود ہے اور وہاں بھی سات سے پندرہ دنوں بعد ملتا ہے کہانہ،بگا تک بھی پانی نہیں پہنچ رہا اور نہ ہی عیسی وال،ڈھوک نورا،میرے،جندران،کوٹلہ سیداں،سید رحمن،ملیار،منڈاھڑ اور لنگر تک اتنی بڑی سیم کا ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پہنچ رہا ان خیالات کا اظہار امید وار برائے قومی اسمبلی حلقہ این اے67جہلم چوہدری عابد جوتانہ نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ جو سیاسی نمائندے عوام کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں کر سکتے انھیں حکمرانی کا کوئی حق حاصل نہیں انھیں مستعفی ہو کر گھروں کو لوٹ جانا چائیے اب عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا عوام سب کچھ جان اور پہنچان چکے ہیں۔