پوٹھوہار کےجنگلی خرگوش کی نسل بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے

جہلم(چوہدری عابد محمود +اسماعیل افتخار)پوٹھوہار کا جنگلی خرگوش رفتار میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، مگر اس سفید جنگلی خرگوش کی نسل بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ماضی قریب تک پوٹھوہار میں راجے مہاراجے، حکمران،جاگیر دار،فوجی افسران فنکار نامور لوگ اپنے قیمتی کتوں اور نوکروں چاکروں کے ساتھ خرگوش کے شکار اور کتوں کی رفتار سے انجوائے کرنے کیلئے ہفتوں کی تفریح کے ساتھ ڈیرے جما لیتے تھے یہاں موسم سرما میں پہاڑی علاقوں کی شکار گاہوں میں میلے کا سماں لگا رہتاتھا لمبی لمبی ٹانگوں، لمبی بوتھی، دبلے پتلے جسم والے شکاری کتوں کی دوڑیں اور تیز رفتار جنگلی سفید خرگوش کو زندہ پکڑ کر مالک کے قدموں لانا ان کتوں کا معمول تھا جو کتا خرگوش کو پہلے پکڑ لیتا فاتح قرار دیا جاتا، اس کا استقبال ڈھول ڈھمکوں، باجوں اور ہلہ گلہ، نوٹوں کے نچھاور کرنے کے ساتھ ساتھ انعامات اور آتشبازی، فائرنگ کی آوازوں سے کیا جاتا،پوٹھوہار کے علاقے کا جنگلی خرگوش دوڑ میں ثانی نہیں رکھتا اس لئے یہ کھیل اس علاقے میں کھیلا جاتا تھا یہ ایسی تفریح تھی جس سے بے روزگار نوجوانوں کا کارروبار بڑھ جاتا اور کتوں کے شائقین ان علاقوں میں ڈیرے جما لیتے تھے، جبکہ اب پوٹھوہار کی معروف شکار گاہیں جن میں ڈومیلی، نالہ گہان، خلاص پور، باغاں والا، جلالپور شریف سمیت دیگر پوٹھوہاری علاقوں کا یہ روائتی کھیل ماضی کی کہانی بنتا جا رہاہے جس کی وجہ سے سفید خرگوش کی نسل بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔