تحصیل پنڈدادنخان اور کوہستان نمک میں مسلسل چار گھنٹے بادل کھل کر برسے

پنڈدادن خان( رپورٹ ملک ظہیرا عوان )تحصیل پنڈدادنخان اور کوہستان نمک میں مسلسل چار گھنٹے بادل کھل کر برسے جس کے باعث تمام نشیبی علاقے زیر آب آگئے نکاسی آب کا کوئی بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پہاڑی برساتی نالوں کا سارا پانی دیہاتوں میں داخل ہوگیا رہائشی مکان قبرستان گلیاں نالیاں کمرے پانی سے بھر گئے للہ شریف میں للہ ہندوانہ کے گلیاں دریائے جہلم کا روپ دھار گئیں لیکن انتظامیہ اور سیاستدانوں کی بے حسی کی انتہا ہوگئی کند وال گاؤں کے درمیان والا تلاب ٹویا میں لوگوں نے مٹی کا بند باندھ کر اپنی اپنی حفاظت کر رکھی تھی لیکن پانی کی شدت کے بعد بند ایک طرف سے ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے قیوم کے مکانات کو سخت نقصان پہنچا اس کے علاوہ کندوال میں عیانےپیر کا دربار ملحقہ قبرستان اور آبادی زیرآب آگئی گول پور کے قریب پنڈدادنخان للہ روڈ پر بڑے پل کے مشرق کی جانب مٹی کا بند پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے جس کی وجہ سے برساتی پاڑی نالے کا پانی گول پور گاؤں کی طرف رخ کر لیتا ہے اور سگھری کا پانی بھی گاؤں میں داخل ہو جاتا ہے جب شدید پانی کو نکاسی کا راستہ نہ ملا توپانی مین پنڈدادنخان روڈ کو اوپر سے کراس کرتا رہا جس سے ساری سڑک تباہ و برباد ہو گئی یونین کونسل ساووال اور سمن وال میں بھی پانی داخل ہو گیا گورنمنٹ ہائی سکول سمن وال کی چاردیواری زمین ہوگی دفتر یونین کونسل ساووال بنیادی مرکزصحت ساووال اور سکول کی عمارتیں زیر آب آ گئی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ساووال کے ایک سکول کے بچوں کا امتحان کسی گھر میں بٹھا کر لیا گیا کیوں کہ بچوں کے اسکول جانے کا رستہ ہی بند تھا