منہ بولے بھائی

تحریر: مُحمد عُبید اسحاق

بھائی ایک خوبصورت رشتے کا نام ہے ایک ایسا رشتہ جس کےاندر احساسات،سکون،محبت اور خلوص جیسی خوبیاں پنہاں ہوتی ہیں۔اللہ نے اس رشتے کو اتنا خوبصورت بنایا ہے کہ جیسے دو اجسام کے اندر ایک روح نظر آتی ہے اور وہ روح کسی بھی ایک جسم کی درد یا تکلیف سے کانپ اٹھتی ہے۔اس رشتے کو جتنا بھی محبت کے آنگن میں رکھ کر لکھاجائے وہ کم ہے۔
خاندان کے اندر مختلف مقامات پر بھائی ایک دوسرے سے الگ رہتے نظر آتے ہیں اس کی وجہ وقتی مجبوریاں یا انا تو کہیں ضد نظر آتی ہے مگر جب درد کی کیفیت بنے تو وجوہات دور دور تک دیکھنے کو نہیں ملتیں ان میں کہکشاں کی طرح Alliance نظر آنے لگتا ہے۔
اسلام میں جہاں خونی رشتوں کا درجہ ہے وہاں منہ بولے رشتوں کا تقدس بھی ملتا ہے۔ان سب کا ایک اپنا مقام اور مرتبہ ہے۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ بھائی کے رشتے میں منسلک کیا گیا ہے اس کی وجہ ہمارے اندر خلوص،محبت اور ہمدردی ہر وقت رہے اور نفرتوں کا وجود دور دور تک دیکھنے کو نہ ملے۔
پیارے نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے،
“مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اس کو ذلیل کرے نہ اس کو حقیر جانے” صحیح مسلم 6541
افسوس معاشرے کے اندر دو مرد حضرات بہت کم ایک دوسرے کے بھائی بنے نظر آتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں مردوں کے درمیان حسد،فسادات،انا،اور ظلم سے بھرے واقعات آئے روز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
مگر اس کے برعکس منہ بولے بھائی،بہن کا رشتہ اب ہر طرف قائم ہوتا نظر آرہا ہے جو کہ بالکل منفی اثرات کی طرف زیادہ گامزن ہے۔Privateاور Govt محکمے میں مرد و خواتین ایک جگہ کام کر رہی ہیں۔ایک جگہ کام کرنا غیر مناسب نہیں مگر Personal Contact کا قائم کر لینا انتہائی غیر مناسب ہے۔
آپ اپنے ساتھ کام کرنے والی خواتین کو بہن،ماں اور بیٹی کا درجہ ضرور دیں مگر ذاتیات سے اجتناب کریں۔اس لحاظ سے خواتین کو زیادہ احساس ہونا چائیے کہ وہ مرد جو ان کے منہ بولے بھائی بنے ہوئے ہیں ان کی سوچ ہمیشہ بھائی والی نہیں رہتی۔Internet کے روز مرہ استعمال سے لوگ Evil Thoughts کے زیادہ شکار ہیں۔اس لیے خواتین اول اجتناب کریں۔
اللہ نے بھائی بہن کے حقوق خوبصورت انداز سے مرتب کیے ہیں۔ہمیں ان حقوق کا احترام کرنا چائیے۔لوگ اپنے سگے بھائیوں کو چھوڑ کر منہ بولے بھائی بنائے پھر رہے ہیں۔اپنے سگے رشتوں کے لیے وقت کو ختم کر رہے ہیں ہاں صرف تکالیف میں ان کے پاس پہنچتے ہیں مگر اس وقت تک سگے بہن یا بھائی کی آنکھیں بند ہو چکی ہوتی ہیں وہ صورت ہمیشہ کے لیے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور ہمارے لیے اپنا وجود ختم کر جاتے ہیں۔