سچ ہے تو کڑوا ہو گا

تحریر: محمد عبید اسحاق
بہت ظلم ہوا۔۔۔ اس ملک سے محبت رکھنے والی ۔۔بے چاری خاتون۔۔ وطن عزیز پاکستان کی آزادی کے دن کی خوشی میں۔۔۔ نوافل پڑھنے مینارِ پاکستان پہنچی ابھی نوافل پڑھ ہی رہی تھی کہ لوگوں نے اسے اکیلا دیکھ کر زیادتی کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ایسی اب بہت سی کہانیاں سننے کو ملیں گی۔۔۔
خیرکافی دنوں سے میڈیا اور اخبارات کے اندر واقعہ مینارِ پاکستان کے موضوع پر لوگوں کی رائے اور ان کے تاثرات پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ہر شخص اپنے منفرد انداز میں واقعے کی مذمت کر رہا ہے۔کچھ لوگوں کے مطابق مردوں کا عمل غلیظ ہے اور کچھ کے ہاں عورت کا عمل بے ہودگی سے مطابقت رکھ رہا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو مردوں کے عمل کو دیکھ کر شرمندگی نہ صرف ہوتی ہے بلکہ ہزار بار لعنت بھیجنے کو دل کرتا ہے۔
انسان کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے بچے کی حرکات وسکنات سے ماں باپ کی تربیت کا عکس نظر آتا ہےاور بچپن سے ہی اگر آزادانہ ماحول دے دیا جائے تو یقیناً ایسی اولاد کے مستقبل میں اس سے بھی بڑھ کر واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔
خیر مردوں کی اس حرکت کو جتنا برا کہا جائے میرے نزدیک وہ غلط نہیں ایسے لوگوں کے لیے کڑی سزا تجویز کرنی چائیے۔
عالی جاہ! میں Tik Tok کے موضوع پر اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ ایک ایسی بری Application ہے کہ جس سے ہماری نسل کو عریانی کی تعلیم دی جا رہی ہے اور یہ Tik Tok کا ایسا خطرناک وائرس ہے جو دن بدن ہمارے اندر Multiply ہو رہا ہے جس کا رکنا شاید اب نا قابلِ یقین ہے۔
معاشرے میں ایسی برائی کا آغاز عورت کے اپنے قدم سے ہوتا ہے اگر عورت اپنے اندر حیا اور جرات رکھےتو کسی بھی مرد کی اس طرف آنکھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔
یہاں بات کروں گا ٹک ٹاکر خواتین کی جو اس معاشرے میں موجود ہر اپنی طرح کےشخص کی جیب میں محفوظ ہیں۔لوگ ایک کلک کرکے ان کے بے ہودہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔اب سب کے پاس بہترین Android موبائلز ہیں سکرین کے اوپر اپنی انگلی سے چلتی ویڈیو کو روکتے اور اپنے موبائل میں محفوظ بناتے ہیں۔اور اگر یہی خواتین اپنے دیکھنے اور بے ہودگی کی چاہت والوں کو Live دکھانے کی غرض سے بلائیں تو یقیناً پھر جاہل پرستار وہاں پہنچ کر اپنی غیرت کو گھر رکھ کر ان کا احترام اور عزت نہیں کرتے بلکہ درندوں کی طرح نوچ ڈالتے ہیں۔
اور پھر یہی خواتین دوپٹے اوڑھے رو کر اپنے اوپر کیے کا بدلہ مانگتی نظر آتی ہیں۔
عالی جاہ! زمانے کی اس غلاظت کا حل کسی ایک گروہ کو سزا دینا نہیں ہے بلکہ ایسی بے ہودہ Application حکومت کے اپنے کنٹرول میں ہیں وہ اسے بند کر ے ورنہ ہمارے قائد کے اس پاک وطن پاکستان کو ہم ایسے واقعات کے ساتھ چکنا چور ہوتے دیکھیں گے۔