ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے ہم سوچتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں،امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ(ادریس چودھری) ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے ہم سوچتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔ہمارے اعمال بحیثیت مجموعی ایسے ہو گئے ہیں جن کے ظاہر اور باطن میں فرق ہے۔اس نفاق نے معاشرے میں وہ تعفن پھیلایا ہے کہ جس کی وجہ سے معاشرے میں مثبت تبدیلی نا ممکن ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب انہوں نے کہا کہ جو آنکھ آپ ﷺکو نہ پہچان سکی وہ حقیقت میں اندھی ہے۔اگر آج ہم نے ارشادات محمد الرسول اللہ ﷺ کو نہ سمجھا تو ڈر ہے کہ پھر وہی حالت جو اْس زمانہ میں کفار کی تھی کہیں ہمارے کردار میں بھی نہ آ جائے کہ ہم دعوی بھی کریں کہ آپ ﷺ کو مانتے ہیں لیکن آپ? کی نہ مانیں یعنی آپ ﷺکو اللہ کا رسول بھی مانتے ہیں لیکن آپ ﷺ کے ارشادات پر عمل نہیں کرتے تو یہ حالت کس زمرے میں آئے گی۔سوچنے کی ضرورت ہے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے یا ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔ہم سوچتے کچھ ہیں کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں یہ بہت بڑی خرابی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ولی اللہ اْسے کہتے ہیں جو فرائض ادا کرنے والا ہو۔فرائض کی ادائیگی قرب الٰہی کی طرف لے کر جاتی ہے اللہ کی رضا کا سبب بنتی ہے۔جس سے بندہ مومن کو اللہ کریم کی دوستی نصیب ہوتی ہے ایک تعلق نصیب ہوتا ہے پھر وہ نفلی عبادات سے اس تعلق کو مزید مضبوط تر کرتا چلا جاتا ہے ورنہ قرآن کریم میں ہے کہ ہر صاحب ایمان اللہ کا دوست ہے۔ہر ایک کا اپنے اللہ کریم کے ساتھ اپنا تعلق ہے جس کے مختلف مدارج ہیں کوئی کسی درجہ پر ہے کوئی کسی درجہ پر۔اور یہ ساری کی ساری عطا اتباع محمد الرسول اللہ? میں ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔