جہانگیر ترین نے ن لیگ سمیت 3 بڑی جماعتوں سے اتحاد پر غور شروع کر دیا

جہانگیر ترین نے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اہم مشاورتی اجلاس نتھیا گلی میں طلب کر لیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و ہم خیال گروپ کے سربراہ جہانگیر ترین نے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اہم مشاورتی اجلاس سیاحتی مقام نتھیا گلی میں طلب کر لیا۔اجلاس تین روز تک جاری رہے گا جس میں اس حوالے سے مشاورت کی جائے گی کہ آئندہ انتخابات میں کیا حکمت عملی ہو گی۔اس سے قبل بلدیاتی انتخابات میں…

اجلاس میں مستقبل میں ن لیگ، ق لیگ سمیت پیپلز پارٹی کے ساتھ ممکنہ اتحاد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین نے اپنے گروپ کے 40 کے قریب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کا اجلاس 2 اگست کو نتھیا گلی مری میں بھی طلب کیا ہے جو 4 اگست تک جاری رہے گا۔ارکان اسمبلی کے قیام و طعام کا اہتمام کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ترین نے قریبی سینئر رفقا مشاورت کی ہے کہ مستقل میں عمران خان کے ساتھ مکمل طور پر صلح نہیں ہوتی تو اس صورت میں کیا لائحہ عمل ہونا چاہئیے۔

کیونکہ بجٹ منظوری کی مجبوری کے تحت وزیراعظم اور حکومت کو وقتی طور پر ریلیف دینا پڑا جبکہ اصل صورت حال مختلف ہے۔

قومی امکان ہے کہ اگلے الیکشن میں ہم خیالوں کو ٹکٹ نہیں ملے گا۔صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کا سیاسی نقشہ ابتدائی طور پر زیربحث آئے گا۔جہانگیر ترین نے تمام ارکان اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی تجاویز ،

سفارشات ساتھ لے کر آئیں اور اپنے اپنے انتخابی حلقوں کی رپورٹ بھی تیار کریں کہ وہاں تحریک انصاف کا کتنا ووٹ ہے اور دیگر جماعتوں کا کتنا ووٹ ہے۔

مزید یہ کہ کس جماعت کے ساتھ اتحاد فائدے میں رہے گا۔جبکہ وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے مابین چلنے والے معاملات سے متعلق سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کے لوگ ذہنی طور پر ایسی صورتحال کے لیے تیار تو ہیں لیکن مستقبل کی سیاست میں ان کی جائے پناہ کہاں ہو گی اور آئندہ الیکشن میں وہ کس کے اتحادی ہوں گے؟ اس پر ابھی تک ان میں صلاح مشورہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ں جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کی ممکنہ سیاسی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کے آپسی تعلقات پر بھی بات کی اور کہا کہ چند روز پہلے جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ ترین گروپ پوری طرح زندہ ہے اور اپنے مستقبل کے سیاسی ایجنڈے پر غور کر رہا ہے۔

بجٹ اجلاس میں ان کی طرف سے بزدار کے حق میں ووٹ دینے سے ان کی الگ حیثیت ختم نہیں ہوئی، انہیں اندازہ ہے کہ ان کے پی ٹی آئی کے اندر گروپ بنانے کو شاید مستقبل میں عمران خان معاف نہ کریں اور ایسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے کہ عمران خان آئندہ الیکشن میں اس گروپ کو پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہی نہ دیں۔

SuchTV