پنجاب حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر تحصیل دینہ کے ملازمین کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا

دینہ(ادریس چودھری)پنجاب حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر تحصیل دینہ کے ملازمین کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد ایڈہاک ریلیف اور 25 فیصد اسپیشل الاؤنس کے اضافے کا اعلان کیا، لیکن ٹرانسفر کردہ تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ بھی شامل نہیں کیا گیا، بلکہ جولائی کے مہینے کے کنوینس الاؤنس کی بھی ایڈوانس کٹوتی کرلی گئی۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان سرکاری ملازمین کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا ہے، حکومت نے پنجاب بھر کی طرح تحصیل دینہ کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر ریلیف دینے کیلئے 15جولائی سے تنخواہیں دینے کا اعلان کیا۔جولائی کی تنخواہ میں ملازمین کو حکومت پنجاب کے اعلان کردہ 25 فیصد اسپیشل الاؤنس جون اور 25 فیصد جولائی کا اسپیشل الاؤنس دیا جانا تھا، اس کے ساتھ بجٹ میں بڑھائی گئی تنخواہ 10فیصد ایڈہاک ریلیف بھی ٹرانسفر کیا جانا تھا، یعنی ملازمین کو مجموعی طور پر 60 فیصد اضافے کے ساتھ تنخواہ منتقل کی جانی تھی۔ملازمین خوش تھے کہ یکم اگست کو عید کے بعد ملنے والی تنخواہ 15 جولائی کو اضافے کے ساتھ ایڈوانس مل جائے گی، ملازمین نے اضافے کے ساتھ ملنے والی تنخواہ سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، بعض ملازمین نے قربانی کے جانور اور عید کے موقع پربچوں کی شاپنگ اسی اضافی تنخواہ سے کرنی تھی لیکن تنخواہ میں اضافہ نہ ہونے سے ملازمین کی خوشیاں ادھوری رہ گئیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت نے تنخواہ میں اضافہ شامل کرنے کی بجائے کنوینس الاؤنس کی بھی کٹوتی کر لی ہے،اس حوالے سے ملازمین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کے نام پر پنجاب کے سرکاری ملازمین سے تاریخی فراڈ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق، کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے مقابلے میں پنجاب کے ملازمین کو شودر سمجھا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو عید کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لاکھوں ملازمین کو 25 فیصد اور 10 فیصد اضافہ سے محروم کردیاگیا۔