گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی واپڈا نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی

سوہاوہ (احسن وحید)گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی واپڈا نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور اوور لوڈ سے آئے روز ٹرانسفارمر کا جلنا معمول بن گیا اپوزیشن نے ہار کے بعد شہریوں کے مسائل پر چپ سادھ لی الیکشن میں عوام کی ترجمانی کا دعویٰ کرنے والے ہارنے کے بعد عوامی مسائل پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں مہر فیاض ۔چوہدری ندیم خادم ۔راجہ سفیر اکبر و دیگر کی لوڈ شیڈنگ پر خاموشی شہریوں کے مسائل سے عدم دلچسپی کا ثبوت ہے تفصیلات کے مطابق جنرل الیکشن میں درجنوں امیدواروں نے حصہ لیا جنہوں نے اپنے حلقہ کی عوام سے بلند و بانگ دعوے کیے جن میں ایک دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہارنے کے بعد بھی اپنے ووٹروں کے ساتھ رہینگے اور ان کے مسائل پر آواز بلند کرتے رہینگے لیکن حالیہ شدید گرمی کے بعد واپڈا کی غیر اعلانیہ لوڈ شیدنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے اس شدید گرمی اور حبس میں واپڈا کی طرف سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا ہے لیکن کسی بھی امیدوار کی طرف سے آج تک نہ تو کوئی مذمت کی گئی اور نہ ہی اس پر آواز اٹھائی گئی جو کہ ان امیدواروں کا عوام کے مسائل سے دلچپسی نہ ہونے کا ثبوت ہے جہاں ایک طرف منتخب نمائندے عوامی مسائل پر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں وہی دوسری طرف اپوزیشن کہلوانے والے بھی مسلسل خاموش رہ کر مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہو رہے ہیں کیونکہ جو اپنے حلقہ کے بنیادی مسائل پر آواز نہیں اٹھا سکتے وہ جیت کر بھی خاموش رہنے والوں میں ہی شمار ہونگے ۔ سوہاوہ گزشتہ پندرہ سالوں سے سیاسی یتیمی کا۔شکار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ سیاستدانوں کی بے حسی ہے جو صرف اور صرف زبانی دعوے ہی کرتے آئے ہیں عوامی حلقوں کی طرف سے سابقہ امیدواروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سوہاوہ میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر اپنی آواز اٹھائیں