چک عبدلخالق کے عوام سکریننگ ٹیم اور ڈی ایچ او کے خلاف پھٹ پڑے

دینہ(ادریس چوہدری سے)دینہ کے نواحی گاﺅں
چک عبدالخالق میں سپین پلٹ نوجوان میں کرونا وائرس کی علامات۔ محکمہ صحت جہلم کی ٹیم کی متاثرہ گاﺅں آمد،لوگ ٹیم کی کارکردگی اور ڈی ایچ او کے خلاف”جہلم نیوز“ سے بات کرتے ہوئے پھٹ پڑے،پورے گاﺅں میں بدستور خوف و ہراس کی فضا جاری۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں تحصیل دینہ کے گاﺅں چک عبدالخالق میں ایک سپین پلٹ نوجوان فرخ شاہ ولد ظفر شاہ کا کرونا وائرس کا رزلٹ پازیٹو آیا۔مذکورہ نوجوان اپنی بیماری کے باوجود اپنے گھر میں رہا اور پورے خاندان کے لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کرتا رہا۔معززین گاﺅں کی شکایت پر محکمہ صحت کی ٹیم نے اس کے تمام 8بندوں پر مشتمل گھر والوں کوقرنطینہ سنٹر جہلم منتقل کر دیا۔دو روز قبل محکمہ صحت کی ٹیم گاﺅں چک عبدالخالق کے لوگوں کی سکریننگ کے لئے پہنچی۔اس ٹیم کی کارکردگی کے خلاف”جہلم نیوز“ سے گفتگو کرتے ہوئے معززین علاقہ پھٹ پڑے۔سابق وائس چیئرمین یونین کونسل مدوکالس سید شاہد حسین شاہ،سابق کونسلر سید افتخار حسین شاہ،راجہ نوید افضل،سید ناظم جعفری اور دیگر نے ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے۔ان کا کہنا تھا ٹیم کے پاس بخار چیک کرنے والا پرانا میٹر تھا،ڈیجیٹل میٹر بھی گاﺅں والوں نے مہیا کیا،یہ لوگ ہر گھر میں بھی چیک کرنے کے لئے نہیں گئے،صرف فارملیٹی پوری کی۔جس ٹیم کے پاس ٹمپریچر چیک کرنے والا میٹر ہی نہیں ہے اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔یوں کہنا مناسب ہو گا یہ نوکری بچاﺅ ٹیم تھی۔سید شاہد حسین شاہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ او جہلم کو متاثرہ نوجوان کے خاندان کے 8افراد کا رزلٹ دینے کو کہا مگر افسر مذکورہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے اور ہمیں تاحال رزلٹ نہیں دیا۔میرا مطالبہ ہے کہ اس نااہل،نالائق ڈی ایچ او جہلم کا یہاں سے فوری تبادلہ کیا جائے،میں اس ڈی ایچ او خلاف ہر فورم پر جاﺅں گا۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہمارے پورے گاﺅں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ہم اور ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔یہ سب محکمہ صحت جہلم کی نااہلی کی وجہ سے ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر صحت پنجاب سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ ہمارے گاﺅں پر رحم کریں اور ہمارے لوگوں کا پراپر معائنہ کریں۔