سفر تمام ہوا ! بدر بھائی بھی کوچ کر گئے ، تحریر – عباس ملک

برطانیہ میں اپنی وضع و انداز کی شاندار اور بھرپور شخصیت گنگا جمنی مشرقی تہذیب کے علمبردار
اور عظیم شاعر فیض احمد فیض کے قریبی ساتھی بدرالدین بدر برمنگھم میں انتقال کر گئے

برمنگھم کی ایشیائی پاکستانی کمیونٹی سیاسی ، سماجی اور کاروباری شعبوں کے ساتھ علمی ادبی اور ثقافتی زندگی میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت سے برطانیہ آنے والے اکثر بڑے اور نامور ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کا لندن کے بعد دوسرا پڑاؤ برمنگھم ہی ہوتا تھا خاص طور پر عہد حاضر کے عظیم شاعر جناب فیض احمد فیض اور احمد فراز کی میزبانی جناب بدر کے دولت خانےپر ہی انجام پایا کرتی تھی چرچ رو ڈ موزلے میں واقع بدر صاحب کا یہی وسیع گھر اردو ادب اور جناب فیض کی نسبت سے ایک مقتدر حوالہ بن گیا
دراصل بدر بھائی ہندوستان کے ایک ایسے روائتی سید گھرانے کے چشم و چراغ تھے جہاں وسیع دسترخوان مہمانوں کی عزت افزائی فنون لطیفہ
خاض طور پر شعروادب کی سرپرستی اور پزیرائی بہت اہمیت رکھتے ہیں
بدر بھائی تمام عمر اپنے انہی اوصاف کے پابند رہے ان کے انتہائی قریبی حلقہ احباب میں جناب فیض صاحب ، احمد فراز قتیل شفائی ،محسن احسان ، شہزاد احمد معروف صداکار اور اداکار
ضیا محی الدین ، ناہید صدیقی ، ناہید نیازی مصلح الدین ، کرشن گولڈ جمیلہ گولڈ معروف ادیب محمودہاشمی بی بی سی کے سلیم شاھد ایسٹ اینڈفو ڈز کے مالک ٹونی دیپ ووہرا اور بیسیوں دیگر شخصیات ہمیشہ بدر بھائی کے ارد گرد موجود رہیں
خاص طور جس شخص نے زندگی بھر بدربھائی کا ساتھ نبھایا وہ ہیں کرکٹ کے قومی لیجنڈ اور
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مشتاق محمد جو بدر صاحب کے انتقال پر اب ان کے بغیر گزرنے والے زندگی کے روزوشب کے بارے میں رنجیدہ اور کھوئے ہوؤے دکھائی دیتےہیں
زندگی کے آخری ایام میں بھی بدر بھائی نے اپنی روایات کو متاثر نہیں ہونے دیا ڈاکٹروں کی جانب سے آرام کے مشورے کے باوجود ان کی ضیافتیں اورعشائیے جاری رہے ان کا آخری سوشل سرکل جناب مشتاق محمد ، برمنگھم کی معروف سماجی اور کاروباری شخصیت چوھدری اظہر محمود چوھدری گل محمدانجینیئر ریاض علی بٹ اور بدھ کی ہفتہ وار نشست کے اراکین پر مشتمل تھا جس سے وہ مسلسل رابطے میں رہتے تھے وہ خود تو آ نہیں سکتے تھے لیکن اپنے ہاں ہی وہ دوستوں کی دعوت
کا اہتمام کر لیتے تھے۔
بدر صاحب اپنی شاندار اور خوبصورت شخصیت
کشادہ دلی اور مہمان نوازی کی بے مثال مشرقی روایات کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ان کے چاہنے والے دوست عزیزواقارب اور اھل خانہ سب ان کے بچھڑ جانے پر گہرے دکھ
اور غم میں مبتلا ہیں آئیے ہاتھ اٹھائیں اور اپنے وقت کے درویش صفت سراپا محبت ، خلوص کے پیکر اور وفاؤں سے سرشارایک مثالی انسان کی بخشش مغفرت اور جنت میں اعلی و ارفع مقام کے لیے دعا کریں ! آمین

چند ہفتے قبل بدر صاحب کی قیام گاہ پر ہونے والی عشائیہ میں جناب مشتاق محمد انجینئر ریاض بٹ ، چوھدری اظہر محمود اور راقم الحروف عباس ملک

ع -حق مغفرت کرے
عجب آزاد مرد تھا