عیدی بھیجنے کا قدیم روایتی طریقہ خوبصورت،پیاربھرا عید کارڈ نظام مکمل طور پر دم توڑ گیا

جہلم(چوہدری عابد محمود +چوہدری دانیال عابد)جہلم سائنس کی ترقی کے ساتھ ہی عید الفطر کے موقع پر عید مبارک اور عیدی بھیجنے کا قدیم روایتی طریقہ خوبصورت،پیاربھرا عید کارڈ نظام مکمل طور پر دم توڑ گیا، اب اس کی جگہ جدید سائنسی وٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹروغیرہ نے لے لی، جو پیار محبتوں اور چاہتوں سے مکمل خالی اور صرف رسمی بن گیا، 90 کی دہائی تک رمضان المبارک شروع ہوتے ہی، شہر کی دکانوں میں دیدہ زیب عید کارڈز کے اسٹال سج جاتے تھے، 10 رمضان سے 20 رمضان تک اپنے پیاروں کو عید مبارک کہنے کے لئے عید کارڈز کی خریداری عروج پر ہوتی تھی مگر سائنس کی ترقی نے اس قدیم روایتی عید کارڈ نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور اب اس کی جگہ فیس بک، ٹویٹر،وٹس ایپ، میسنجر اور موبائل فونز کی بے شمار ایپس نے حاصل کرلی ہیں، اب شہری فیس بک، وٹس ایپ، میسجنر اور ٹویٹر پر اپنے پیاروں کو پلک جھپکتے ہی عید مبارک دیتے دکھائی دیتے ہیں جس طرح پہلے مختلف ڈیزائنوں کے رنگ،برنگے، اسلامی، محبت، تاریخی اور سیاسی عید کارڈ کے ڈیزائنوں کی بھرمار ہوتی تھی، اسی طرح اب وٹس ایپ میسنجر، فیس بک پر بھی نئے انداز کے خوبصورت ڈیزائنوں کے عید مبارک کے پیغامات تیار کرلئے جاتے ہیں، قدیم عید کارڈ سسٹم خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ آج کی نسبت مہنگا بھی تھا،اچھا من پسند عید کارڈ اس وقت 90 سے 500 سو روپے تک جو 2000 ء کی دھائی تک 20 روپے سے 150 روپے میں دستیاب ہوتا تھا کسی بھی شہر بھجوانے کے لئے ڈاک خرچ الگ سے ادا کرنا پڑتا تھا اور عید کارڈ میں چپکے سے ایک روپیہ، دو روپیہ، پانچ روپے اور10 روپے کے نوٹ بھی بطور عیدی چھپا کر بھیج دیئے جاتے تھے جسے بھی یہ عید کارڈ ملتا اس کی خوشی دیدنی ہوتی، اپنے پیاروں کے لکھے ہوئے عید کارڈز بچے انتہائی شوق سے کھولتے اور عید کارڈز میں چھپے روپے، 2 روپے نکال کر جو خوشی ملتی تھی اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا تھا، پردیس سے آنے والے عید کارڈز ملتے ہی گویا عید کا سماں پیدا ہو جاتا جس سے مائیں بہنیں خوشی کا اظہار کرتی نظرآتیں تھیں وہ انداز قابل تحریر ہی نہیں، عید کارڈز کی خریداری، فروخت بھی ایک بہت بڑا کارروبار ہوتا تھا بے روزگار، نوجوان یکم رمضان سے عید الفطر تک خصوصی اسٹال لگا کر عید کارڈز فروخت کرکے اپنی بہترین عیدی بنا لیا کرتے تھے، وٹس ایپ، فیس بک کے عید مبارک پیغامات میں نہ خلوص ہے اور نہ ہی چاہتیں شامل ہیں یہ سب رسمی عید مبارک کے پھیکے پیغامات بن کر رہ گئے ہیں، جو دونوں اطراف کے عید پیغامات سے کر دی جاتی ہیں، بلکہ اب 257 افراد کے گروپ میں ایک ہی عید مبارک کا میسج شامل کرکے رسمی کارروائی پوری کر دی جاتی ہے، اب کوئی بھی عید کے دن کسی ڈاکئیے کا انتظار نہیں کرتا، بلکہ اب تو نئی نسل کے بچوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکیا کون ہوتا ہے، ماضی میں ڈاکئیے کا ان کے والدین اپنے بچپن میں کیسے انتظار کرتے تھے، سائنس کی ترقی نے جہاں ہمارے لئے آسانیاں پیدا کیں وہیں پیار محبت، خلوص بھی چھین لیا، ہائے عید کارڈ، آئی لویو، بزرگوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہمارے دور میں محبتوں کی عید ہوتی تھی عید کارڈز کا ہم ہفتوں انتظار کرتے تھے جب بھی ڈاکیہ محلے میں آتا تو پورا محلہ دروازے کھول کر دروازوں میں کھڑا ہو جاتا اور گزرتے ڈاکیہ سے ہر کوئی سوال کرتا کہ ہمارا عید کارڈ آیا ہے؟ جب ڈاکیہ ناں میں سرہلاتا تو چہرے پر مایوسی کے بادل چھاجاتے جس کو ہاں کہتا تو چہرا خوشی سے پھول جاتا اور سر فخر سے بلند ہو جاتا تھا، اب نہ وہ محبتیں رہیں اور نہ وہ خلوص رہا ہے۔