دورانِ صیام انسانی جسم کا ردعمل

تحریر(سہیل انجم قریشی دینہ)
پہلےدو روزے پہلے ہی دن بلڈ شوگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضر اثرات کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا یعنی بی پی گر جاتا ہے۔ اعصاب جمع شدہ گلائی کوجن کو آزاد کر دیتے ہیں جس کی وجہ جسمانی کمزوری کا احساس اجاگر ہو جاتا ہے۔ زہریلے مادوں کی صفائی کے پہلے مرحلہ جس میں نتیجتاً سر درد، چکر آنا، منہ کا بدبودار ہونا اور زبان پر مواد کا جمع ہونا ہوتا ہے۔۔۔تیسرے سے ساتویں روزے تک جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور پہلے مرحلہ میں گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بعض لوگوں کی جلد ملائم اور چکنا ہو جاتی ہے۔ جسم بھوک کا عادی ہونا شروع کرتا ہے اور اس طرح سال بھر مصرف رہنے والا نظام ہاضمہ رخصت مناتا ہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔خون کے سفید جرسومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے روزے دار کے پھیپڑوں میں معمولی تکلیف ہو اس لیے کہ زہریلے مادوں کی صفائی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انتڑیوں اور کولون کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ انتڑیوں کی دیواروں پر جمع مواد ڈھیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔آٹھویں سے پندھرویں روزے تک آپ پہلے سے توانا محسوس کرتے ہیں۔ دماغی طور پر چست اور ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے پرانی چوٹ اور زخم محسوس ہونا شروع ہوں۔ اس لیے کہ اب آپ کا جسم اپنے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط ہو چکا ہے۔ جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ سیل کو کھانا شروع کر دیتا ہے جسے عمومی حالات میں کیموتھراپی کے ساتھ مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے خلیات سے پرانی تکالیف اور درد کا احساس نسبتا بڑھ جاتا ہے۔ اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ قوت مدافعت کے جاری عمل کی نشانی ہے۔ روزانہ نمک کے غرارے اعصابی اکڑاؤ کا بہترین علاج ہے۔۔۔
سولھویں سے تیسویں روزے تک جسم پوری طرح بھوک اور پیاس کو برداشت کا عادی ہو چکا ہے۔ آپ اپنے آپ کو چست، چاک و چوبند محسوس کرتے ہیں۔ ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہو جاتی ہے۔ سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے۔ جسم کے سارے زہریلے مادوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ نظام ہاضمہ کی مرمت ہو چکی ہے۔ جسم سے فالتو چربی اور فاسد مادوں کا اخراج ہو چکا ہے۔ بدن اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ بیس روزوں کے بعد دماغ اور یادداشت تیز ہو جاتے ہے۔ توجہ اور سوچ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ بلاشبہ بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کو بھرپور انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔۔۔میرے پیارو! یہ تو دنیا کا فائدہ رہا، جو بےشک ہمارے خالق نے ہماری ہی بھلائی کے لیے ہم پر فرض کیا۔ مگر دیکھیے اس کی رحمت کا انداز کریمانہ کہ اس کے احکام ماننے سے دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنے کا بہترین بندوبست کر دیا۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم …
(التماس ہے کہ جس جس سے ممکن ہو، یہ معلومات شئیر فرما دے، جزاکم اللہ تعالٰی علیہ خیراً کثیرا)