مسلح افواج کا تمسخر اڑانے پر عدالت میں کیس چلے گا، قائمہ کمیٹی سے ترمیمی بل منظور

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسلح افواج اور ان کے اہلکاروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف 2 سال کی قید اور 5 لاکھ تک کے جرمانے کی مجوزہ سزاؤں کے قانون کی منظوری دے دی۔

راجا خرم شہزاد نواز کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں حکومتی رکن قومی اسمبلی امجد علی خان کی طرف سے پیش کردہ کرمنل لاء ترمیمی بل زیرغور آیا۔

کمیٹی اجلاس میں پیپلزپارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ، مسلم لیگ ن کی مریم اورنگزیب اور ندیم عباس نے بل کی مخالفت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل ملک میں آزادی اظہار کے خلاف استعمال ہوگا، بل کے بارے میں خیبرپختونخوا حکومت مخالفت میں ووٹ دے چکی ہے، تین صوبوں نے ابھی تک رائے نہیں دی، یہ بل خود ہمارے اداروں کے خلاف ہے، ہم اپنے اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں تاہم نیک نیتی سے تنقید کو غلط نہیں کہنا چاہیے، مقدس گائے کیوں بنا رہے ہیں؟

اجلاس میں ووٹنگ کرانے پر 5، 5 ووٹ برابر ہوئے تو چیئرمین کمیٹی خرم نواز نے حکومتی رکن امجد علی خان کے مجوزہ بل کے حق میں ووٹ ڈال دیا اور بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پی ٹی آئی کے رکن امجد علی خان کے پرائیویٹ بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

بل کے تحت مسلح افواج اور ان کے اہلکار جان بوجھ کر کی جانے والی کسی بھی تضحیک، توہین اور بدنامی سے مبرا ہوں گے، ایسا کرنے والے شخص کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 اے کے تحت کارروئی ہوگی اور 2 سال تک کی سزا، 5 لاکھ تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سول عدالت میں کیس چلے گا۔

SuchTV