دورانِ رمضان مفاد عوام رمضان بازار نہ لایا جائے ،سماجی زعماء دینہ

دینہ(ادریس چودھری)حکومت پنجاب دورانِ رمضان مفاد عوام رمضان بازار نہ لا کرنہ صرف لاکھوں روپے کی بچت کر سکتی ہے بلکہ عوام ذہنی اذیت سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ سماجی زعماء دینہ کاحکومت پنجاب سے مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق مقدس رمضان میں انتظامیہ رمضان بازار کا اہتمام کرتی ہے۔ رمضان بازار لگانے پر کڑوروں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق جملہ آفیسراپنے دفتری کاروبار چھوڑ کر صرف رمضان بازار کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں رمضان کے مہینہ میں نارمل ورک ختم ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق رمضان بازاروں میں نہ معیاری اشیاء ملتی ہیں اورنہ ہی سستی۔ دکانداروں کو زبردستی رمضان بازار میں ٹھیہ لگانے کا حکم ملتا ہے۔ عوام کی سہولت کے لئے حکومت نے جب یوٹیلٹی سٹور کا انتظام کر رکھا ہے تو رمضان بازار لگانے کی ضرورت کیاہے۔ خریداری کے لئے شہر ی کے پاس مہنگائی کی وجہ سے جیب خالی ہوتی ہے اور خالی جیب وہ مظلوم رمضان بازار میں کیا خریداری کرے گا۔ لہذا حکومت وقت سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ رمضان بازار کے بجائے عوام کو عام ریلف دینے پر توجہ دیں۔