مسجد الحرام سے دہشت گرد تنظیموں کے حق میں نعرے لگانے والا چاقوبردار شخص گرفتار

مسجد الحرام

سعودی حکام نے مسجد الحرام سے دہشت گرد تنظیم کے حق میں نعرے لگانے والے مسلح شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کو مسجدالحرام کی سیکیورٹی فورس نے 30 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔

مکہ پولیس کے ترجمان نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ مذکورہ شخص کو مسجد کی پہلی منزل پر عصر کی نماز کے بعد چھری لہراتے اور نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا تھا جسے موقع پر موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر گرفتار کرلیا۔

 

دونوں مقدس مساجد کی پریزیڈینسی کے سربراہ شیخ عبدالرحمٰن السودیس نے ‘دی نیشنل’ کو بتایا کہ نسل پرستی یا انتہا پسندی پر مبنی اظہار رائے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ شخص نے ‘مسجد کا بھی احترام نہیں کیا، اللہ نے مسجد الحرام کو عبادت گاہ بنایا جس میں نماز، طواف اور حج ہوتا ہے’۔

اس سے قبل اکتوبر 2020 میں ایک شخص نے اپنی تیز رفتار گاڑی مسجد الحرام کے دروازے سے ٹکرا دی تھی۔

مذکورہ شخص نے 2 رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے گاڑی جنوبی داخلی دروازے سے ٹکرادی تھی جس پر گارڈز فوری طور پر اس تک پہنچے بعدازاں حکام نے کہا کہ مذکورہ شخص کی ‘ذہنی حالت ٹھیک نہیں’۔

قبل ازیں جون 2017 میں سعودی حکام نے مسجد الحرام پر حملے کے منصوبے ناکام بنایا تھا۔

وزارت داخلہ نے مسجد الحرام کے نزدیک واقع علاقے اجیاد المصافی کے ساتھ ساتھ جدہ میں چھاپے مارے تھے۔

جس کے دوران فورسز نے مبینہ حملہ آور کے گھر کا گھیراؤ کیا جہاں اہلکاروں اور حملہ آور کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا تھا۔

خودکش حملہ آور کے خود کو دھماکے سے اڑانے کے نتیجے میں 3 منزلہ عمارت تباہ ہوگئی تھی جس میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

SuchTV