جہلم کی داستان، تحریر: مظہر برلاس

چند برس پہلے اسلام آباد سے میر پور جاتے ہوئے کچھ دیر سوہاوہ کی اسسٹنٹ کمشنر نرگس شازیہ چوہدری کے پاس کچھ دیر رکا، موسم شاندار تھا، بادلوں نے اس میں حسن کے رنگ بھر دیئے تھے۔ سوہاوہ سے نکلا تو پھر ضلع جہلم کے پہاڑوں میں بکھری ہوئی داستانوں میں کھو گیا۔ بیگنوالہ سے شروع ہو کر کالا باغ کو چھونے والا کوہستان نمک یاد آیا۔ نمک سے سکندر اعظم کی یاد آئی کہ اس کے گھوڑوں نے جلال پور کے قریب پتھر چاٹ کر نمک دریافت کیا تھا۔ آج کھیوڑہ کی کان کا شمار دنیا میں نمک کی دوسری بڑی کان کے طور پر ہوتا ہے، اس ہمالین سالٹ کا شمار بہترین نمک میں ہوتا ہے۔ یہ قبل مسیح کا قصہ ہے مگر میری دھرتی کے عظیم پنجابی سیاستدان شاعر افضل احسن رندھاوا نے جہلم کے سیاسی روپ کو شاندار نظم ’’شیشہ اک لشکارے دو‘‘ میں جمع کر دیا ہے۔ افضل احسن رندھاوا کے نزدیک جہلم نے دو بڑے سیاسی سپوت پیدا کئے۔ ایک راجا پورس دوسرا چوہدری الطاف حسین، جہلم کے شیشے کے یہی دو لشکارے ہیں۔ راجا پورس کے مقابلے اور ہاتھیوں کے قصے آپ پڑھ چکے ہیں۔ پچاس کی دہائی سے نوے کی دہائی تک سیاستدان، مقرر، قانون دان اور شاعر چوہدری الطاف حسین کی سیاست آپ کے سامنے رہی، انہوں نے ’’آندھیوں میں چراغ‘‘ سمیت کئی یادگار کتابیں لکھیں، وہ 1956ء میں کم ترین عمر میں رکن اسمبلی بنے، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا بھرپور ساتھ دیا۔ میاں ممتاز دولتانہ اور فیض احمد فیضؔ سے یارانہ رہا۔ فیضؔ صاحب نارووال کے تتلے اور چوہدری الطاف حسین جہلم کے وینس جاٹ تھے۔ جہلم کی مٹی سے سیاست اور ذہانت بولتی ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت کے دو وزرائے اعظم کا تعلق جہلم سے تھا۔ ’’راوین‘‘ اندر کمار گجرال کا تعلق جہلم شہر سے تھا جبکہ ڈاکٹر من موہن سنگھ جہلم کی تحصیل چکوال کے گائوں گاہ میں سردار گرمکھ سنگھ کے ہاں پیدا ہوئے مگر من موہن سنگھ کی تعلیم دینہ اور جہلم کے درمیان ایک قصبے کالا گجراں میں ہوئی۔ جہاں من موہن کے نانا کا گھر تھا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ قائداعظم کے قریبی ساتھی راجہ غضنفر علی خان کا تعلق بھی جہلم سے تھا۔ اس صدی کی ابتدامیں وفاقی کابینہ میں جو شخص ہردلعزیز رہا اس کا نام چوہدری شہباز حسین ہے۔ چوہدری شہباز حسین اب بوہڑ کی مانند خاندان کے بزرگ ہیں۔ آج کی وفاقی کابینہ میں ان کے بھانجے فواد چوہدری لاجواب ہیں۔ حالیہ سیاست میں ذہین ترین اور تیکھے کھلاڑی کے طور پر فواد چوہدری نے خود کو منوایا ہے۔ کھیوڑہ، پنڈ دادن خان اور جہلم کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ انہیں فواد چوہدری جیسا نمائندہ دستیاب ہے، اس نے للَہ، جہلم ڈبل روڈ کے علاوہ سیالکوٹ راولپنڈی موٹر وے منظور کروا کے ضلع جہلم کو اور بھی اہم بنا دیا ہے۔ وہ پنڈ دادن خان اور جہلم کے درمیان صنعتی علاقے کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ ان دنوں8 جہلم کے دوسرے حلقے سے فواد چوہدری کے کزن اور چوہدری الطاف حسین کے فرزند فرخ الطاف قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بہت مشہور ہونے والے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام حسین کا تعلق بھی جہلم ہی سے تھا، ویسے تو یہاں سے نوابزادہ اقبال مہدی اور راجہ افضل بھی سیاست کرتے رہے مگر ملکی سیاست میں جہلم کا اہم حوالہ چوہدری الطاف کا خاندان ہے۔ برصغیر میں ریلوے کی تاریخ مرزا ابراہیم کے نام کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، تقسیم سے پہلے برصغیر کی ریلوے یونین کے جنرل سیکرٹری مرزا ابراہیم تھے، قیام پاکستان کے بعد ہمارے ہاں ریلوے یونین میں ٹریڈ یونین کے اس لیڈر کا نام گونجتا رہا۔

جہلم لکھاریوں کی سرزمین اور بہادروں کی دھرتی ہے۔ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کالا گجراں ہی کا تو تھا جبکہ جنرل آصف نواز جنجوعہ چکری راجگان کا تھا، میجر محمد اکرم شہید کا تعلق بھی جہلم ہی سے ہے۔ فواد چوہدری سچا ہے کہ ضلع جہلم کے قبرستان شہدا کی قبروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ سب دھرتی کی محبت میں شہید ہوئے۔ لکھنے والوں کی فہرست طویل ہے کس کس کا نام لوں۔ گلزار سے شروع کروں یا درشن سنگھ آوارہ سے پھر ضمیر جعفری سے یا علی عباس جلالپوری سے۔ جوگی جہلمی کو دیکھوں یا تنویر سپرا کی ترقی پسندی کو سامنے رکھوں۔ آفتاب اقبال شمیم، کرنل محمد خان، منیر جہلمی، انجم سلطان شہباز، غافر شہزاد، ڈاکٹر محمود احمد چغتائی، ایوب سنگیا، عاطف توقیر، احسان سہگل یا اپنے احمد لطیف یا پھر اعزاز سید کس کس کا تذکرہ کیا جائے۔ کرکٹ کی دنیا میں عظیم حفیظ کے نام سے کون واقف نہیں۔ بھارت کے معروف نقاش ستیش گجرال جہلم کے باسی تھے۔ سیاست کو شاعری میں پرونے والے نصیر کوی ضلع جہلم سے ہیں، انہوں نے لکھا ’’تم کتنے بھٹو مارو گے‘‘ پھر یہ امر ہو گیا۔ بار ایٹ لا کرنے والی جنوبی ایشیا کی پہلی مسلمان خاتون رابعہ قاری اور غلام احمد قادیانی کے خلاف کتاب لکھنے والے پنڈت لیکھ رام کا تعلق جہلم سے تھا۔ بھارت کی فلم اور سیاست کا اہم نام سنیل دت جہلم کے قریبی گائوں خورد کا رہنے والا تھا، اس کے بیٹے سنجے دت نے بھی خوب نام کمایا۔
خواتین و حضرات! کالم محدود ہے اس لئے کالا گجراں سے تعلق رکھنے والے مزاحمتی پنجابی شاعر درشن سنگھ آوارہ، دینہ سے تعلق رکھنے والے سمپورن سنگھ کالرا المعروف گلزارؔ فلمی دنیا کے بڑے گیت نگار، خورد سے تعلق رکھنے والے بھارتی فلم انڈسٹری کے بڑے نام سابق وزیر کھیل سنیل دت، اللہ دتہ المعروف جوگی جہلمی اور چک عبدالخالق سے تعلق رکھنے والے، لوک گیت ’’لونگ گواچہ‘‘ کے خالق ضمیر جعفری کے قصے کسی دن پھر لکھوں گا۔ فی الحال آپ کے لئے گلزارؔ کی شاعری؎
ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی
چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی
کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہوئی چاندنی
رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی